Wednesday, 19 August 2015

تیسرا پاکستان

تیسرا پاکستان 



ٹرین کی وِسل سُنتے ہی بابے رحیم نے اپنی بکریوں کو اکٹھا کرنا شُروع کر دیا ۔ ساری بکریاں گنتی کر کے ہانکتا ہوا ریلوے لائن کے پار اپنی بستی سے باہر واقع دربار کی طرف چل دیا ۔ 

دربار کے باہر پرانے پیڑ کے نیچے ملنگ بیٹھا اپنی بھنگ گھوٹ رہا تھا ۔ بابا رحیم معمول کے مطابق جا کے ملنگ کے پاس پڑے حُقے کے کش لگانے لگا ۔
پیڑ کی ساری شاخیں رنگ برنگی ڈوریوں اور کپڑوں سے ڈھکی ہوئی تھیں جنہیں دیکھ کے اکثر بابے رحیم کو اپنی ناکام مرادیں بھی یاد آ جاتی تھیں ۔

پہلی ڈوری اُس نے اپنی آسیب زدہ بیٹی کی صحت کے لئے باندھی تھی ، دوسری اپنے ناراض بیٹے کو منانے کے لئے جو سسرال کا ہو کے رہ گیا تھا اور تیسری ٹی بی کی مریض اپنی بیوی کی زندگی کے لئے مگر تینوں مرادیں نامراد ہی رہیں 
بیوی چل بسی بیٹے نے نہ آنے کی قسم کھائی تھی تو ماں کی مرگ پر بھی نہ آیا اور بیٹی آسیب کی نذر ہو گئی 
مولوی صاحب نے بکرے کی بھینٹ لے کر کہا تھا کہ سب ٹھیک ہوگا مگر اُس کی لاڈو رانی زندگی کی بازی ہار گئی ، آسیب جاتے جاتے کوئی بھاری نُقصان ضرور کر کے جاتے ہیں ، ایسا بھی مولوی صاحب نے بتایا تھا جو اُس بیچاری پر جانوروں کی طرح چھڑیاں برسا رہے تھے

بابا رحیم انہی خیالوں میں کھویا تھا کہ ملنگ کی آواز نے اُسے چونکا دیا جو اُسے تازہ خبریں سُنا رہا تھا ۔ 
سُنا ہے رحیمے نیا پاکستان بن رہا ہے 
بابا رحیم ایکدم لرز کے رہ گیا اور غیر یقینی کی کیفیت میں ملنگ کی طرف متوجہ ہوا جو اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا 
ایک نئی جماعت بنی ہے جو نیا پاکستان بنانے جا رہی ہے اور بہت خون خرابے کا بھی ڈر ہے 
بابے رحیم کو یاد آیا اس سے پہلے بھی دو مرتبہ پاکستان بنا تھا ۔ کتنا خون خرابہ ہوا تھا ، پہلی مرتبہ جب ہندوستان سے بٹوارہ ہوا تھا اور اُسے بزرگوں کی قبروں کو چھوڑ کے نئے ملک پاکستان آنا پڑا تھا ، ہر طرف لاشیں اور خون تھا جن پر کسی مذہب کا نام نہیں تھا نہ ہی قومیت کا بس بے جان جسم اور گاڑھا سُرخ خون ۔

دوسری مرتبہ جب آدھا پاکستان الگ ہوا تھا تب بھی ریڈیو پر خون خرابے کی خبروں کے علاوہ کُچھ بھی نہیں تھا ۔ کتنے انسان مارے گئے تھے پر سب اُن پر بنگالی اور غیر بنگالی کی چھاپ لگا کے اس قتلِ عام کو تمسخر میں اڑا رہے تھے ۔

اب تیسرے پاکستان کی خبر نے رحیمے کو بہت بے چین کر دیا تھا وہ جلدی جلدی اپنی بکریوں کو لے کے گھر کی طرف چل دیا ، وہ رات بڑی بے چینی میں گُزری ،اگلی صبح تڑکے رحیما اپنے بستر سے نکلا اور مسجد کی طرف چل دیا ، نماز کے بعد مولوی صاحب نے بڑے جذباتی انداز میں بیان کیا کہ ایک بہت بڑے اور پہنچے ہوئے مولوی صاحب پاکستان آ رہے ہیں ، اللہ کا خاص کرم ہو گیا کہ اب اسلامی انقلاب آئے گا اور سارے آسیب دور ہو جائیں گے جو لوگوں کی بے حیائی کی وجہ سے ہمارے مُلک سے چمٹے ہوئے ہیں
بابا رحیم مولوی صاحب کی باتیں سُن کے پُرسکون ہو گیا تھا ، اب بس ایک فکر تھی کہ بڑے مولوی صاحب کو بھینٹ کون دے گا ، اسی سوچ میں گُم رحیم ایک فیصلہ کر چُکا تھا کہ وہ اپنی بکریاں بیچ کے سارے پیسے بڑے مولوی صاحب کو نذر کرے گا تا کہ وہ پاکستان سے آسیب بھگا سکیں 

اگلے کُچھ دن رحیم کو اپنی بکریں بیچنے میں لگ گئے ، اس دوران مسجد سے خبریں ملتی رہیں کہ بڑے مولوی صاحب بہت جان توڑ کوشش کر رہے ہیں ہر طرف اُن کا ہی تذکرہ تھا 
جب رحیم ساری رقم اکٹھی کر چُکا تب تک بڑے مولوی صاحب اسلام آباد پہنچ چُکے تھے ، بابا رحیم جلد سے جلد اُن کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا تھا 
اگلے دن رحیما فیصل آباد جانے والی بس میں سوار ہو گیا ، وہاں سے پھر اُسے اپنی منزل اسلام آباد کی بس پکڑنی تھی 

فیصل آباد پہنچ کے پتہ چلا کہ اگلی بس ابھی لیٹ ہے ، بابا وہیں چائے پینے ایک کینٹین میں چلا گیا ، وہاں بہت رش تھا رحیما بھی چائے کا کپ پکڑے اندر جا کے بیٹھ گیا ، اندر ٹی وی چل رہا تھا اور ایک آدمی گلا پھاڑ پھاڑ کے اعلان کر رہا تھا کہ بڑے مولوی صاحب کا انقلاب آ چُکا ہے ، بار بار اسکرین پر جھلکیاں دکھائی جا رہی تھیں کہ مولوی صاحب بڑے تفخر کے ساتھ کنٹینر پر کھڑے اپنی جیت کے اعلان فرما رہے ہیں ساتھ ہی اسکرین پر اگلا سین شروع ہو گیا ، ہر طرف دھواں آگ گالی گلوچ کرتے نعرے مارتے لوگ پارلیمنٹ اور مُلحقہ قومی عمارات پر دھاوا بول رہے تھے اور ٹی وی والا پھر گلا پھاڑ پھاڑ کے بے شمار لوگوں کے مارے جانے کے دعوے کر رہا تھا ۔
رحیمے کو اپنا سانس گھُٹتا محسوُس ہوا ، ساری دُنیا جیسے تیز تیز گھوم رہی ہو اور ایسے ہی وہ بے جان ہو کر زمین پر گر گیا ، 
لوگوں میں کھلبلی مچ گئی ، کوئی پانی لینے بھاگا کوئی اسپتال لے جانے کو رکشہ رکوانے لگا پر آسیب جاتے جاتے نُقصان کر گیا تھا ، 

بابا رحیم تیسرا پاکستان دیکھنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا تھا

زندہ درگور بیٹیاں

"زندہ درگور بیٹیاں"


کالج دور میں کتب بینی کا بہت شوق تھا جو کہ اسی دور کے ساتھ تقریباً ختم ہو گیا تھا
نوے کی دہائی تھی پی ٹی وی کا سنہری دور ابھی چل رہا تھا اور تقسیم ہند کی کہانیاں ٹیلیویژن اور کتب کے ذریعے تواتر سے سامنے آتی رہتی تھیں۔

ایک عمومی سوچ جو اس دور میں ملی تھی کہ تقسیم ہند کے وقت بہت ساری مسلم خواتین کو ہجرت کے دوران سِکھ اغوا کر کے لے گئے تھے جو آخری عمر تک ان سکھوں کے ظلم و ستم جھیلتی ان کی ناجائز اولادوں کو پالتی زندہ لاشوں کی طرح زندگی گزارتی رہیں 

جذباتی دور تھا گھر آنے والا واحد اخبار نوائے وقت ہوتا تھا پھر ان دنوں نسیم حجازی کی کتب بھی زیرمطالعہ رہی تھیں جن کا اثر یہ ہوا کہ سِکھوں سے اور بھارت سے شدید نفرت پیدا ہو گئی ۔
انہی دنوں میں کچھ پرانے اور نئے کلاس فیلوز اسلحے کے شوق اور علاقے میں رعب کے لالچ میں آ کے تعلیم کو خیر باد کہہ کر کشمیر اور افغان جہاد میں حصہ لینے کے لئے ٹریننگ کر کے آئے تھے ان کی زبانوں سے کشمیری ، فلسطینی اور سربیائی خواتین کی عصمت دری اور بیچارگی کی کہانیاں سن کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے تھے 

کسی بھی کہانی کا کوئی نہ کوئی خاکہ آپ کے دماغ میں خودکار نظام کے تحت بننا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی ان بےبس اور لاچار خواتین کا خاکہ ذہن میں بنتا گیا۔
ایک بے جان آنکھوں والا نیم مردہ جسم کا خاکہ

ایسے ہی زندگی کے ہنگاموں میں وقت گزرتا رہا ایک دن ایک دوست ڈاکٹر کے کلینک میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے جو ساتھ وقفے وقفے سے مریض بھی بھگتا رہے تھے
اسی بیچ ایک خاتون مریضہ آئی چالیس کے لگ بھگ عمر پیلی رنگت اور بے جان انکھوں کے ساتھ نیم مردہ سی کیفیت میں ۔ 
مجھے یوں لگا کہ جیسے میں اس خاتون کو جانتا ہوں میں حسبِ معمول خاتون مریضہ کے طبی معائنے کے پیش نظر اٹھ کر باہر آ کر اپنی معمول کی جگہ پر سگریٹ سلگا کر بیٹھ گیا کافی دیر دماغ میں ہیولا سا گھومتا رہا کہ ان خاتون کو کہاں دیکھا ہے 
تھوڑی دیر میں ڈسپنسر بلانے آ گیا کہ ڈاکٹر صاحب فارغ ہو گئے ہیں میں نے جاتے ہی اندازہ لگا لیا کہ مزاج کچھ برہم ہے پوچھنے پر پتہ چلا کہ خاتون بے جوڑ شادی کا عذاب جھیلتی اس وقت تقریباً زندگی سے مایوس ہیں اور شدید ڈیپریشن کی لپیٹ میں بس زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں 
کیونکہ ماں باپ کا حکم تھا کہ سسرال ڈولی میں جا رہی ہو اب جنازہ ہی واپس آئے ورنہ میکے والوں کی ناک کٹ جاتی ہے اور وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔
جیسے جیسے باتیں سنتا گیا پرانے دھندلے خاکے ذہن میں تازہ ہوتے گئے ساتھ ہی شناسائی محسوس ہونے کی وجہ بھی مل گئی کہ شائد یہ بیچاری بھی ان لاچار زندہ لاشوں میں سے ہے جو سکھ بلوائیوں کے گھروں میں زندگی کی رمق سے کوسوں دور اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہیں۔

اس دن کے بعد سے ہر گلی محلے میں ایک نہ ایک زندہ لاش نظر آنے لگی جو سربیا یا کشمیر میں پیدا نہیں ہوئی جو کسی بلوے میں سکھوں کے قبضے میں نہیں آئی بلکہ پاکستان میں پیدا ہوئی اور اپنے گھر والوں کے لالچ ، ہوس یا بوجھ سمجھے جانے کے ناکردہ جرم کی سزا پا رہی ہیں
اسی طرح بہت سارے پڑھے لکھے باشعور بیٹے بھی خاندانی ضد یا لالچ کا شکار بنا دیے گئے جو نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو کے اسی اندھے کنویں میں قید ہو گئے 
ہمارے ارد گرد ایسی ہزاروں رونگھٹے کھڑی کر دینے والی دستانیں ہیں جن میں ایک ہنستے کھیلتے جیتے جاگتے انسان کو اس کے اپنے گھر والے زندہ درگور کر دیتے ہیں ۔

مسلک ازم اور برادری ازم جیسی لعنتیں آج کی ترقی یافتہ دور میں بھی پھن پھیلائے کھڑی ہیں 
برادری یا مسلک میں والدین کی پسند کا رشتہ نہ ملنے پر گھروں میں بیٹھی مظلوم بیٹیاں خاص کر جو پڑھ لکھ کر کسی نوکری پر لگی ہوں یا جائیداد کے حصے کی مالک ہوں اور گھر کو معاشی فائدہ دے رہی ہوتی ہیں ان کو یہ کہہ کر ٹرخا دیا جاتا ہے کہ غیر برادری سے بیٹی لے سکتے ہیں پر دے ہرگز نہیں سکتے اور اسی منافقت کے نام پر کئی نسلیں برباد کر دی گئیں ۔ 

آج کے دور میں بھی لڑکیوں کو صرف اس لئے پڑھایا جاتا ہے کہ اچھا مناسب رشتہ مل جائے گا۔ 

یہ ہے ہماری اصلیت جسے ہم منافقت کی چادر اوڑھا کے خالص النسل اور معززین کہلواتے ہیں 
کفر کے زمانوں سے چلتی آ رہی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینے کی قبیح رسم آج بھی اسی شد و مد سے جاری ہے بس پہلے ہم مٹی میں دفناتے تھے آج کل جھوٹی انا اور ضد کی قبر میں گاڑتے ہیں۔ پہلے بیٹیاں چند منٹوں میں دم توڑ دیتی تھیں اور اب کئی دہائیوں تک جان کنی کا عذاب جھیلتی ہیں۔

وہی خونیں رسم جاری و ساری ہے بس طریقہ بدل گیا آج کے والدین بھی بیٹی کو قربان کر کے اپنی عزت کو محفوظ بناتے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ 

دور بدل گیا ہے اور اب مجھے بھی سِکھ بلوائیوں کے گھر محبوس عورتوں پر اتنا ترس نہیں آتا جتنا کالج کے دنوں میں آتا تھا

عالم دوبارہ نیست

عالم دوبارہ نیست

دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے دوست بخوبی جانتے ہوں گے کہ کسی بھی سڑک کنارے اگے درخت پر محکمہ جنگلات کی طرف سے ایک نمبر الاٹ ہوتا ہے جو اس پر کندہ بھی کیا جاتا ہے۔ ہر درخت اپنی ایک الگ شناخت اور مخصوص حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ بڑے ٹمبر مافیاز کو چھوڑ دیں اور عوامی سطح پر دیکھیں تو درخت چوری کا مقدمہ بہت خوار کرتا ہے اس لیے لوگ عموماً چوری سے کنّی کترا جاتے ہیں اور درخت اپنی اسی شناخت کے ساتھ اپنی طبعی عمر پوری کرتا ہے۔

صد افسوس کہ یہ حیثیت انسانوں کو حاصل نہیں۔ ہم اجنبی تو دوُر اپنے سے منسلک شخص کو بھی اس کی الگ شخصیت اور ذاتی سوچ رکھنے کی آزادی دینے سے قاصر ہیں۔ 
بات معاشرتی سطح کی ہو یا خاندان کی ہم ایک دوسرے کو روندتے چلے جاتے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح خود کی انا اور ضد ہی ٹھہرتی ہے یہاں تک کہ کسی پیارے کے مرنے پر ہی یاد آتا کہ یہ بھی ایک الگ حیثیت اور مقام رکھتا تھا پھر ہم اس کو مٹی میں دفنا کے سینکڑوں ہزاروں قبروں میں ایک الگ اور مخصوص قبر کا اضافہ کر دیتے ہیں۔
یہی الگ اور آزاد شناخت ہم زندہ لوگوں کو کیوں نہیں دے سکتے۔ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہر بندے کے شعور اور لاشعور میں بھی خیالات دوڑتے ہیں۔ وہ بھی خواہشات رکھ سکتا عقیدہ رکھ سکتا ہے۔ ہر کسی کی جینے کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں پر بہت جگہوں پر خاندانی یا معاشرتی دباؤ پر سمجھوتے کے نام پر ان کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے
کسی بھی درخت کو تناور ہونے کے لئے تھوڑی سی زمین کے علاوہ اپنے حصے کا آسمان بھی چاہئے تاکہ وہ پھل پھول سکے اب بھلے وہ پھل نہ دے سایہ بھی نہ دے پھر بھی کسی ایک خوبی کا نہ ہونا کوئی جواز نہیں کہ اس کی جڑوں سے زمین چھین لی جائے یا اسے کاٹ گرایا جائے۔ 
ایسے ہی اپنے ارد گرد کے لوگوں کو اپنی بساط کے مطابق بڑھوتری کی پوری آزادی اور سپیس دینی چاہئے
میری تعمیرات کے شعبے سے پرانی وابستگی ہے نااہل سے نااہل معمار بھی مکان بناتے ہوئے دوسری منزل کے بوجھ کو چھت پر نہیں پڑنے دیتا اور دیواروں پر تقسیم کر دیتا ہے پر افسوس ہم رشتے بنانے اور نبھانے کے معاملے میں مکان بنانے جتنی سمجھ بوجھ سے بھی قاصر ہیں۔
بس ٹیڑھا میڑھا بوجھ بڑھاتے جاتے ہیں بنا دیکھے کہ کونسے رشتے یا تعلق میں کس حد تک لچک یا جھیلنے کی استعداد ہے ۔
سوچ کا یہی ٹیڑھ پن "میں تو اسے بانجھ پن کہوں گا" سارے معاشرے میں زہر پھیلا دیتا ہے 
اور ہم سب ایک طرف سے زہر چوس کر دوسری طرف منتقل کرنے کے سائیکل میں جتے ہوئے ہیں

کہانیاں تو بہت ہیں ہر کسی نے کہیں نہ کہیں ایسی صورت حال جھیلی ہو گی جو فلاں بن فلاں بن فلاں سے کسی روایت کی طرح چلتی آ رہی ہو گی اور ہم سب کسی بیل کی طرح سر جھکائے نسل در نسل اس چکر کو پورا کرنے میں لگے ہیں۔
خدارا یہ تسلسل توڑیں
نفرت ، تقسیم ، ضد , بدگمانیوں کو ختم کریں
دوسروں کو اپنی زندگی اپنے طریقے اور مزاج کے ساتھ جینے دیں اور اپنی زندگی کا کتابوں ، فلموں ، ڈراموں یا دوسروں کے حالات سے موازنہ بند کریں 
کیونکہ ہر دو صورتوں میں ۔۔۔۔

عالم دوبارہ نیست !

نیا موڑ

" نیا موڑ "

وہ شناسا آواز کہیں قریب سے ہی آئی تھی ، جیدے کی نیند بھک سے اڑ گئی چند لمحے تو وہ بے جان سا لیٹا آسمان پر نظریں ٹکائے دیکھتا رہا پھر ہمت کر کے آہستہ سے چارپائی سے اٹھا اور بھینسوں کی کھرلیوں کی اوٹ میں اسی سمت بڑھتا گیا جدھر سے آواز آئی تھی
اس کا اندازہ ٹھیک نکلا مکئی کے کھیت کی اوٹ میں وہ دونوں دبکے بیٹھے تھے ، جیدے کے قدم جیسے منوں وزنی ہو گئے ہوں ، اندھیرے کے باوجود یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہاں دو اجسام محبت کی چھینا جھپٹی میں مشغول ہیں 
بوجھل قدموں سے چارپائی تک آتے آتے وہ بالکل بےجان ہو چکا تھا چارپائی پر گرتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو پھوٹ پڑے 
جیدا چھ بھائی بہنوں میں تیسرے نمبر پر تھا ، صحت شروع سے ہی دھان پان سی تھی اوپر سے لمبوترا قد ، وہ ہمیشہ سے قدرت کی ناانصافیوں پر کڑھتا آیا تھا
کبھی کبھی تو اپنے ماں باپ کو دل میں کوسنے دیتا رہتا تھا کہ کیوں ان جیسے احمقوں کے گھر پیدا ہو گیا ، بچپن سے یہ احساس اس کے دل و دماغ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کے ماں باپ دوسروں کی طرح عقل مند نہیں اور یہی احساس آج پھر شدت سے اس کے دماغ پر حاوی ہو گیا کہ یہ جو کچھ ہوا ہے انہی کی وجہ سے ہوا ہے ، لوگوں کے ماں باپ کتنے سلجھے اور سمجھدار ہوتے ہیں نمبرداروں کو ہی دیکھ لو کتنے معاملہ فہم اور اولاد کو عزت دیتے ہیں اور تربیت تو کمال ہے دونوں بیٹھے اچھی جگہ پڑھتے ہیں اور جب گاؤں آتے ہیں تو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے
یہی بات جیدے کو کھاتی جا رہی تھی کہ ماں باپ عزت دیں تو لوگ بھی عزت دینے لگتے ہیں اور یہاں یہ معاملہ کہ اپنے ہی مزارعوں کی بیٹی تک اسے نظرانداز کر کے مسلیوں کے لڑکے سے عشق چلا رہی ہے اور معاملہ رات کی ملاقاتوں تک پہنچ گیا ہوا ہے ، جیدہ یونہی جلتا کڑھتا پتہ نہیں کب دو سو گیا صبح تڑکے ابے کی گالیوں نے اٹھایا جو بیلنا چلانے کی تیاریوں میں مصروف تھا
ابے کو دل ہی دل میں کوستا وہ منہ ہاتھ دھو کر بیلنے پر پہنچا اور کام میں جت گیا
یہاں بھی اسے کوئی اہم کام نہیں دیا جاتا تھا ، گُڑ بنانے کے سارے مراحل میں اس کے ذمے صرف آگ جلائے رکھنے کا ہوتا تھا بار بار ابے کی گالیاں اوئے خبیث ساری پٓت جلا دی اوئے گدھے الوُ کب عقل آئے گی تجھے ۔
پٓت سے زیادہ آگ جیدے کے اندر جلتی رہتی اور وہ دل ہی دل میں کوسنے دے کر اس آگ کو بجھانے کی اپنی سی کوشش کرتا رہتا۔
پہلی پٓت تیار ہوتے ہوتے مسلّی جن کو دیہاڑی پر کماد کاٹ کر بیلنے تک پہنچانے کے لئے رکھا ہوا تھا وہ بیل گاڑی پر گنّے لاد کر بیلنے پر پہنچ گئے اور اب انہیں مطلوبہ جگہ اتار رہے تھے 
جیدا کنکھیوں سے ان کے بڑے لڑکے کو دیکھتا رہا اس نے وہ چھلّا بھی پہچان لیا جو اس نے مزارعے کی لڑکی کو ہکلاتے ہوئے گفٹ کیا تھا اور اس نے ماتھے پر تیوری ڈال کر پکڑ لیا تھا اور تمسخرانہ انداز میں گھورتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی ، اس شام وہ دیر تک پنڈلیوں میں لرزش محسوس کرتا رہا تھا 
یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا تھا ہمیشہ ہی جب بھی وہ کسی لڑکی کے پاس جاتا سانس اکھڑ جاتی تھی اور ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے اوپر سے ہکلاہٹ طاری ہو جاتی تھی پر اگر وہ تھوڑی سی ہمت کرے اور پیش قدمی کرے تو کوئی منزل دشوار نہیں اس کے لئے
"یہ اس کا اپنا خیال تھا"

ہر رات وہ سونے سے پہلے سب سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کے منصوبے بناتا تھا روز فہرست ترتیب دیتا کہ کس کو کیسے قتل کرے گا اور وہاں سے بھاگ جائے گا اور پھر کیسے کچھ ہی عرصے میں پورے علاقے میں جیدے اشتہاری کی دھاک بیٹھ جائے گی پر یہ خیالات سویرے چارپائی سے اٹھتے ہی دم توڑ دیتے تھے اور وہ گھر کے روز مرہ کے کاموں میں الجھ کے بھول بھی جاتا تھا 
جیدے کے دونوں بڑے بھائی شادی شدہ تھے ، سب سے بڑے والا تو شادی کے پہلے مہینے ہی بیوی اور اماں کی لڑائی کے بعد اپنا حصہ بٹور کے سسرالی گاؤں شفٹ ہو چکا تھا ، اس سے چھوٹا ویسے ہی بیوی کا غلام تھا اور سارا دن اسی کے پاؤں سے چمٹا رہتا تھا اور اماں کے طعنوں کا شکار رہتا تھا ابا جی نے بھی کبھی کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کی تھی
اسی ڈیپریشن زدہ ماحول کی وجہ سے جیدا گھر سے باہر ہی رہتا تھا بس کھانا کھایا اور فوراً باہر کی طرف دوڑ لگا دی
ایک دن کھانا کھاتے اس کے کانوں میں بھنک پڑی کہ اماں پہلی دونوں بہوؤں سے مایوس ہو کر کام کاج کے لیے تیسری بہو کو لانے کا فیصلہ کر چکی ہیں تا کہ ان کو آرام مل سکے اور چارپائی پر بیٹھے حکم چلا سکیں 

شادی کا فیصلہ تو ہو ہی چکا تھا اب تیاریوں کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا پر جیدا کسی بات میں دخل نہیں دیتا تھا ، دلہن کے لیے کسی بھی چیز حتیٰ کہ کپڑوں تک کی خریداری میں اس نے ذرا دلچسپی نہیں لی جس پر اماں بہت خوش تھیں اور اعلان کر چکی تھیں کہ یہ میرا بیٹا اپنی بیوی سے اپنی ماں کی خدمت کروائے گا جنت میں گھر بھی پائے گا اور اللہ میاں بھی بہت راضی ہوں گے 
پہلی بار گھر میں اپنی تعریف سن کے وہ تھوڑا جذباتی ضرور ہوا تھا پر پھر سے خیالات آنے والے عروسی لمحات پر مرکوز کر دیے اور کسی بات سے اسے غرض نہیں تھی بس اس کی دلہن گھر آجائے ، روز رات کو سونے سے پہلے وہ خیالات میں پتہ نہیں کہاں کا کہاں پہنچ جاتا بس ایک چیز تھی جو سارے خیالات میں اس کے ہمراہ رہتی تھی " اس کی دلہن "

دن گزرتے پتہ بھی نہ چلا اور مہندی مایوں کی رات آ گئی گھر کے صحن میں رنگلے پایوں والی کرسی ڈال کر اسے بٹھا دیا گیا اور سارے خاندان کی عورتیں اس سر پر تیل اور ہاتھوں پر مہندی تھوپنے لگیں ، انہی بیچ مزارعے کی بیٹی نے رسم پوری کرتے مہندی لگاتے ہوئے شرارت سے اس کے ہاتھ پر چٹکی کاٹ لی اور پہلی بار جیدے نے خوداعتمادی سے اس کی آنکھوں میں گھورا اور بے نیازی سے منہ دوسری طرف پھیر لیا ، اس نئے بدلاؤ پر وہ خود بھی بھی بہت حیران تھا 
وہ رات بہت بے صبری سے کٹی دن ہی نکلنے کا نام نہیں لے رہا تھا آخر صبح کے سورج نے جھلک دکھائی اور گھر میں آئے سارے مہمانوں کی تیاریاں شروع ہو گئیں ہر کوئی نئے کپڑے اٹھائے اِدھر سے اُدھر بھاگا پھر رہا تھا جیدے نے بھی نہا دھو کر شادی کا سوٹ پہنا اور سہرا باندھ کے بارات کے ساتھ روانہ ہوا
سارا دن آنے جانے کے سفر اور لڑکی والوں کی رسموں میں گزر گیا شام گئے وہ دھاڑیں مارتی غش کھاتی دلہن کو لے کر واپس روانہ ہوئے جیدے کی زندگی آج نئے موڑ پر تھی پہلی مرتبہ اتنی توجہ اور آؤ بھگت ملی تھی اسی خوشی میں سرشار بارات سمیت دلہن لیے گھر پہنچ گیا ۔
گھر کی رسموں سے فارغ ہو کر دلہن کو حجلہ عروسی میں بٹھا دیا گیا اور جیدے کو بھی کچھ دیر تنگ کرنے کے بعد وہیں دھکیل دیا گیا 

نئی نویلی دلہن گھونگھٹ نکالے سمٹی بیٹھی تھی وہ کچھ دیر دروازے کے پاس کھڑا اپنے خیالوں میں گم رہا پھر کچھ سوچتا ہوا گردن اکڑائے بیڈ کی دوسری طرف سے جا کر تقریباً ٹیک لگا کر لیٹ گیا ، دلہن کی بے چینی اور گبھراہٹ سے کافی دیر تک محظوظ ہونے کے بعد رعب دار آواز میں بولا "گھونگھٹ اٹھاؤ"
تھوڑی دیر خامشی کے بعد جواب نہ ملنے پر ذرا غصیلے لہجے میں پھر دھاڑا تمھیں سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے 
وہ بیچاری لرزتے ہاتھوں سے گھونگھٹ سرکا کے سر نیچا کئے بیٹھی رہی
پہلی بار جیدے کو اپنے آپ میں غرور آیا تھا اپنے اندر کی مسرت کو چھپائے پھر تلخ لہجے میں حکم دیا کہ سر اوپر کرو اور ادھر میری طرف دیکھو 
دلہن اس نئے حکم سے گبھرائی فوراً سہمی نظروں سے اپنے دولہے کی طرف دیکھنے لگی پر اسے اپنی طرف گھورتا پا کر فوراً نظریں جھکا لیں
احساس تفاخر جیدے کے سر تک پہنچ چکا تھا اور اس نے جھٹ سے اگلا حکم داغ دیا کہ نخرے چھوڑو اور یہاں آ کے میرے پاؤں دباؤ سارا دن تمھارے گھر والوں نے فضول رسموں میں تھکا دیا 
وہ بیچاری سہمی ڈری اپنے مجازی خدا کے پاؤں کے پاس کھسک آئی اور سر جھکائے مہندی لگے ہاتھوں سے اس کے پاؤں دبانے لگی 

جیدے کی زندگی کا یہ نیا موڑ بہت بڑی تبدیلیاں لایا تھا وہ حجلہ عروسی میں نیم دراز نئی نویلی دلہن سے پاؤں دبواتے ہوئے آنے والی زندگی کے حسین مناظر میں کھو گیا ۔

ایک کہانی بڑی پرانی

ایک کہانی بڑی پُرانی

کہانیاں تو نِری کہانیاں ہی ہوتی ہیں
بچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ ایک شہزادی کو جن اُٹھا کے کے جاتا ہے ، پھر ایک بہادر جوان جان کی بازی لگا کر شہزادی کو جن کے چنگل سے چھڑوا کر لے آتا ہے ، بعد میں دونوں شادی کر لیتے ہیں اور ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے ہیں

حقیقی دُنیا کا کہانیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہاں کا بہادر جوان جنگلوں ، پہاڑوں اور صحراؤں کے دھکے کھاتا ہے کسی جِن یا جِن والے بابوں کی تلاش میں جو اُس پر نظرِ کرم کریں تو وہ اپنی شہزادی کی خواہشات اور فرمائشوں کو پوُرا کر کے سُرخرو ہو سکے

ابھی پچھلی چاند رات کو ایک ایسے ہی بہادر نوجوان سے ٹکراؤ ہو گیا ، چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں ، وجہ پوُچھی تو ایک ہاتھ بھر کا کپڑے کا ٹُکڑا دکھا کر روہانسی آواز میں بولا صبح عید ہے اور شہزادی کا حُکم ہے کہ اس رنگ سے ملتے جھُمکے اور نیل پالش ، لپ اسٹک و آئی شیڈ ڈھونڈ کے لاؤ اور تاکید مزید کہ رتی بھر کا بھی فرق نہ پڑے شیڈ میں ۔ مُجھے سچ میں بڑا ترس آیا پر زوجین کا آپس کا معاملہ سمجھ کے نظرانداز کر دیا

ایک اور جاننے والے "بہادر جوان" جن کے ساتھ گھریلو تعلقات بھی ہیں ، اپنی شہزادی نما بیگم کو موٹر سائیکل پر لے کے آتے ہیں ، مُحترمہ گھر آ کے بیٹھ جائیں تو کئی گھنٹے باتیں نہیں ختم ہوتیں اور وہ مظلوم باہر دھوپ ہو یا چھاؤں ویسے ہی موٹر سائیکل کے اوپر بیٹھا رہتا ہے اور اصرار کرنے پر بھی ڈرائنگ روم میں نہیں بیٹھتا ، پہلے پہل تو مُجھے بہت غُصہ آتا تھا پھر غُصے کی جگہ ترس آنے لگا کہ کیا زندگی ہے آج کے نوجوان کی کہ ستم رسیدہ بھی وہی اور لعن طعن کا شکار بھی وہی

آج کی شہزادیوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو چاہے جان کی بازی لگانی پڑے جنات کی تلاش شُروع ہو جائے گی کہ وہ شہزادی کو آٹھا کے لے ہی جائیں

اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا

"اور جس نے میری یاد سے مُنہ پھیرا اُس کے لئے مُعیشت کی تنگی ہے اور آخرت میں ہم اُسے اندھا اُٹھائیں گے"

قُران پاک کی یہ آیت پڑھی تو تجسس ہوا کہ یاد سے مُنہ پھیرنا کیا ہے بھلا اللہ پاک کو ، اپنے خالق و مالک کی یاد کوئی بھلاتا ہے کسی دم ؟

ایک مولانا اور قریبی دوست نما بزرگ سے پوُچھا تو اُنہوں نے جھٹ سے جھوُم کے کہہ دیا اللہ کی عبادت پنج وقتی اور اُس کی راہ میں نکلے لوگوں کا ہر دم خیال رکھنا چاہئے ۔
تسّلی نہیں ہوئی ایک غیر شرعی روشن خیال دوست سے سوال عرض کیا اور مولانا کی رائے بھی بتائی تو آنکھوں میں معنی خیز چمک لا کے بولے بھئی اپنے آپ کو محدود نہ رکھو مولویوں کے کہنے پر انسانیت کا سوچو یونیورسل سوچ رکھو ہمارے ساتھ آؤ اور "سماجی بہبودُد" کے لئے کام کرو

پھر بھی تسلی نہ ہوئی اور یونہی کئی سال گُزرگئے ایسے ہی مگر سوال حل نہ ہوا کہ اگر اللہ پاک نے تنبیہہ کی ہے تو ضرور بچنا چاہئے پر کیسے یہ سمجھ نہ آیا

ایسے ہی پچھلے سال ایک عزیز کی وفات پر تعزیت کے واسطے جانا ہوا تو باتوں باتوں میں مرحوم کے آخری لمحات بتانے لگے کہ بس میں پانی لے کے آیا تو ابا جی نے سانس دے دیے
سانس : تبھی ایک سوچ اُبھری کہ سانس ۔۔۔!

ہاں سانس زندگی کی علامت جو ہر دم ہر زندہ انسان اندر باہر اندر باہر کر رہا ہے ، سانس ایک پُراسرار مشق جس کو قابو میں کرنے کے لئے یوگا کی جاتی ہے ہم ہر وقت اس مشق کو دہرا رہے ہوتے ہیں پر غور نہیں کرتے ، 
تبھی احساس ہوا کہ جیسے مواصلاتی رابطے کے لئے "ریسیپشن" سگنل ضروری ہوتے ہیں ورنہ کنکشن مُردہ تصور کیا جاتا ہے ٹھیک ایسے ہی سانس انسانی سگنل ہیں جب تک چل رہے ہیں ٹاور کے ساتھ کنکشن بحال ہے اور ہر آتے جاتے سانس کے ساتھ ڈیٹا بھی ٹرانسفر ہو رہا ہوتا ہے جو ہمارے اندر کی کیفیت ، سوچ ، شعور ، لاشعور سب تک کا ریکارڈ ایسے ہی ٹرانسفر کرتا ہے جیسے موبائل یا کمپیوٹر کا حساس ادارے ریکارڈ کرتے ہیں کہ آپ کیا براؤز کر رہے ہیں اور کن افعال میں مشغول ہیں

یکدم جھرجھری آ گئی کہ اگر ایسا ہی ہے تو ہم بہت بڑی آزمائش میں گھِرے ہوئے ہیں ، شکل مومناں کرتوُت کافراں ، اوپر سے دینی خدمت اور اندر سے بیواؤں کے اور مظلوموں کے نام پر ہوس اور گندگی کے شکار ، 
کونسا شعبہ بچتا ہے اسکول کے اساتذہ سے لے کر قلمی مجاہد صحافی تک ، کون کسی بے بس کو چھوڑتا ہے مُردار کا گوشت ہی نہیں ہڈیاں تک بھنبھوڑ جاتے ہیں ، چاہے ایک ضرورت مند اہل کو نوکری ہی دینی ہو بس جیسے ہی کسی مجبور کا سر جھُکا فوراً دبوچ لیا جاتا ہے ۔
ہر دم اندر بے ایمانی ، ہوس ، لالچ ، بددیانتی ، جھُوٹ فریب ، مکر اور خوشامد کے پلان بن رہے ہوتے ہیں مگر ہم مُنہ پر معصوُمیت سجائے ، انسانوں میں ننگ دھڑنگ خیالات اور سوچیں لئے گھوُم رہے ہوتے ہیں ، یہ جانے سوچے بغیر کہ ہر سانس اللہ کے ڈر سے غافل اور منافقت سے آلوُدہ ہو کے جا رہا ہے 
اللہ پاک جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب ، دل کی دھڑکن میں بھی شامل ہماری ہر سوچ آمیز سانس کو ریکارڈ میں لگا رہا ہے اور یہی پلندہ روزِ حشر ہمارے مُنہ پر مارا جائے گا

نام نہاد شرافتیں ، منطقیں ، ٹخنوں سے اوُپر پائنچے ، شرعی داڑھی ، بیواؤں کی خیرخواہی ، روشن خیالی اور سماجی بہبود یہ سب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اللہ پاک ہمارے کِسی ، کِسی بھی مکر میں آنے والے نہیں وہاں ہمارے ظاہر کے چیتھڑے اُڑا دئے جائیں گے اور باطن کو ننگا کر کے رکھ دیا جائے گا 
پھر کِدھر مُنہ چھُپائیں گے سرکار ؟

اور جس نے میری یاد سے مُنہ موڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!