Sunday, 31 March 2019

تیر تُکا

تِیر تُکّا

چودھری صاحب اپنی زمینوں پر درخت کے نیچے رنگلی چارپائی پر آرام فرما رہے تھے کہ اچانک کھیتوں میں گاؤں کا میراثی اپنی نئی نویلی دلہن کو سیر کرواتا نظر آیا
چودھری نے  اسے پاس بلایا اور آگ بگولا ہو کر پوچھا  اوئے تیری جرات کیسے ہوئی ادھر سے گزرنے کی ساری فصل کا ستیاناس کر دیا
میراثی نے ہاتھ جوڑ کر منت سماجت کی کہ سرکار نویں ووہٹی کو گاؤں دکھانے نکلا تھا
پر چودھری کا غُصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اپنے پاس پڑا تیر کمان اٹھایا اور ہوا میں پورے زور سے تیر چھوڑ دیا میراثی کو سزا کے طور پر دور کھڑی فصلوں سے تیر ڈھونڈ کے لانے کا حُکم دیا
وہ غریب چودھری کی فطرت سے واقف تھا پر چارو ناچار حُکم کی تعمیل کرنی پڑی اور میراثن کو وہیں چھوڑ کے تیر ڈھونڈنے نکل پڑا ، کافی دیر کی تلاش بسیار کے بعد تیر ڈھونڈ کے چودھری کی خدمت میں حاضر ہوا اور اڑی رنگت لئے حواس باختہ کھڑی اپنی بیوی کو سر جھُکائے لے کر چلا گیا
کُچھ مہینوں کے بعد ایک دن پھر میراثی اکیلا اسی کھیت سے گُزر رہا تھا کہ چودھری اپنی چارپائی پر لیٹا نظر آیا ، چودھری نے میراثی کو اکیلے جاتے دیکھا تو مایوسی اور حقارت سے مُنہ پھیر کے لیٹا رہا
میراثی خود چودھری کے پاس چلا گیا اور اگلی پچھلی نسلوں کو بھاگ لگے رہنے کی دعا دینے کے بعد  ایک سوال پوچھنے کی اجازت مانگی ، چودھری نے بیزاری سے کہا بک کیا بکنا ہے تو میراثی نے ہاتھ جوڑ کے پوچھا کہ "چودھری جی آپ کی شادی ہو گئی ہے یا ابھی تک تِیر تُکّے پر ہی ہیں"

کُچھ ایسا ہی معاملہ آج کل سعودیہ یمن معاملے پر پاکستان سے پیش آ رہا ہے ، ایک طرف پڑوسی ممالک کی سازشیں اور دوسری طرف دوست ممالک کا دباؤ یعنی ایران بمقابلہ سعودی عرب کے نام سے جاری کھیل میں زبردستی کی شراکت داری۔

سعودیہ بے شک معاشی طور پر مضبوط ترین ریاست ہے اور تیل خیزی میں اپنی مثال آپ ہے مگر بد قسمتی سے تِیر تُکّے والی چودھراہٹ سے باہر نہیں نکل پایا۔
میں تاریخ ، سیاست ، معاشرت یا معیشت کے علوم پر تو عبور نہیں رکھتا نہ ہی اعداد و شمار کا ماہر مگر ایک سیدھا سادھا پاکستانی مسلمان ہوں ، اسی کی دہائی میں دینی اور دنیاوی تعلیم کا سلسہ شروع ہوا اور اب تک پاکستان میں ہی مقیم رہا ہوں اس لئے مجھے بحیثیت پاکستانی مُسلمان اپنے حقوق کے بارے آگاہی اور متقاضی ہونے کے لئے کسی دانشور جیسی بلا کی ذہانت کی قطعی ضرورت نہیں۔
میرے ایمان اور شعور کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ جیسا کہ ہم شروع سے عربوں کی شجاعت اور بہادریوں کے قصوں سے متاثر ہو کے پاکستانی نوجوانوں کو مُختلف بین الاقوامی متنازعہ محاذوں پر کوڑیوں کے بھاؤ جھونک چُکے ہیں وہ عرب شجاعت اور دلیری کہاں ہے
آج اگر سعودی عرب شاہانہ طرز زندگی کی بجائے وہی مجاہدانہ طرز زندگی اپناتا جس کی ہمیں  تعلیم دلاتا رہا ہے تو میری لائف ٹائم آئیڈیالوجی برباد نہ ہوتی نہ ہی آج میرا سر جھُکتا۔
بحیثیت پاکستانی ہم اپنے ہی معصوم بھائیوں اور بیٹوں کو کب تک اس تِیر تُکّے کی بھینٹ چڑھتے دیکھیں گے، سعودیہ اپنی فوج بنانا چاہے تو اس کے لیے شائد اتنا ہی آسان ہو جتنا آج کل کیبل کا کنکشن حاصل کرنا ہو گیا ہے مگر وہ اپنے شہریوں کو کفالت کی افیون پر تو لگا دے گا مگر ان کو لڑائی میں نہیں جھونکے گا نہ ہی یہ چاہے گا کہ اس کے عوام نازونعم اور عیش وعشرت کی زندگی چھوڑ کر عسکری اور سیاسی سوچ اپنانے لگیں ۔

اب آتے ہیں ایران کی طرف جس کے ساتھ ہمارے حساس ترین صوبے بلوچستان کی سرحدیں بھی لگتی ہیں۔
ایران کے اوپر بہت مرتبہ بلوچستان میں جاری بدامنی کا ذمہ دار ہونے کا الزام لگ چکا ہے
ایران کی بلوچستان میں حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
وارلارڈز کو پناہ دینا شدت پسند گروپوں کی سپورٹ کرنا انہیں ہر طرح کا سامان بارڈر پر مہیا کرنا یہی کافی نہیں تھے اوپر سے کُچھ عرصہ پہلے سرحدی محافظوں کے قتل کا الزام زبردستی پاکستان پر تھوپنا اور اب انڈیا کے ساتھ بڑھتی محبت اور دونوں کے درمیان ہوئے قول اقرار وغیرہ بھی ناقابل معافی گردانے جاتے ہیں۔
یار لوگوں کا مشورہ ہے کہ حکوُمت کو ریاست کے دوہرے مفاد کی خاطر آخری مرتبہ اس تیِر کو اُٹھا لانا چاہئے ایران کو بھی سبق مل جائے گا اور عرب دوستوں کو بھی راضی کر کے معاشی اہداف حاصل کئے جا سکیں گے اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کیسے اس کوئلے کی چاروناچار دلالی سے ملکی امن ، روزگار ، معاشی بہتری اور دیگر مہلک ملکی مسائل کے حل جیسے اہداف حاصل کر پاتی ہے ۔

اجنبیت

میں
اور میری زندگی
ساتھ ساتھ چلتے ہیں
بیچ میں چلتی ہے
باڑھ اجنبیت کی
فاصلہ تو رہتا ہے
آسرا نہیں ملتا
اور جیئے جانے کا
حوصلہ نہیں ملتا

ساتھ ساتھ چلنے سے
فاصلے نہیں گھٹتے
ہاتھ تھام لینے سے
آسرے نہیں ملتے
بات یہ زرا سی تھی
پر یہ بات سمجھنے میں
عمر گزر گئی ساری

اکھاں نوں ہتھاں نال ڈھک کے
ہونی نوں کوئی ٹال نئیں سکدا
لاکھ مراداں منتاں منگے
بُجھیا دیوا بال نئیں سکدا

عالم برزخ

ابھی رات کو بازار کچھ سامان لینے گیا تو وہاں  بیٹھا ایک بندہ بڑے جذباتی انداز میں اپنے دوستوں کو عالم برزخ پر لیکچر دے رہا تھا

کچھ دن پہلے میں اس کے محلے سے گزر رہا تھا تو اس کے پڑوسی نے گزرتے دیکھا اور آواز دے کر اپنی پرانی کریانے کی دوکان کے اندر بلایا اور خود بھی باہر والے بنچ سے اٹھ کر اندر آ گیا
میں بیس سال سے اتنی دور اس کی دوکان سے دہی لانے جایا کرتا تھا کہ اس کا دہی بہت خالص اور گھر کے دہی جیسا ہوا کرتا تھا ابھی تین چار پہلے ہی جانا چھوڑا تھا
اس کی حالت کچھ عجیب سی لگ رہی تھی 
فالج کے اثرات اور پھر بڑھاپا
اس نے لرزتی اور اٹکتی آواز میں بات شروع کی بیماری اور گھریلو حالات بیان کئے
جب اس بندے نے آنکھیں نیچی کر کے آخری جملہ کہا کہ چھوٹے بھائی کسی کو بتانا نہیں
جتنی بےبسی اس وقت اس شریف آدمی کی میں نے محسوس کی  بیان سے باہر ہے
آج اس سے بھی زیادہ غصہ اور نفرت اس بندے سے ہوئی جس کا پڑوسی اس حال میں ہے اور یہ چوک میں دوستوں کو برزخ کا حال بیان کر رہا ہے۔
ہماری سوچ کی پرواز عالم برزخ اور عالم لاہوت سے نیچے ہی نہیں آ رہی کہ ہم اپنے ارد گرد کے حالات سے بھی آگاہ رہ سکیں
پڑوسی کے حقوق جس کا ہمیں سختی سے حکم ہے اسے چھوڑ کر لایعنی باتیں جن کا ہمارے اعمال اور حساب کتاب سے کوئی تعلق نہیں ان میں الجھے ہوئے ہیں۔
جو عقل و فہم ہمیں ہمارے فرائض سے غافل کردے وہ سراسر جہالت کہلائے گی  دانشوری نہیں
قران مجید اور احادیث بھری پڑی ہیں  ہمارے حقوق اور فرائض کے متعلق مگر انہیں بھی ہم نے صرف قسمیں کھانے اور حلف دینے یا دوسروں کو کافر قرار دینے کا ایک سہارہ بنا کے رکھا ہوا ہے اس سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں دیتے۔
فکر و تدبر جس کام ہمیں حکم دیا گیا تھا وہ ہم یا تو کرتے نہیں اور اگر کرتے ہیں تو خودپسندی کے زیر اثر اپنی ذاتی سوچ کو کسی بھی طرح سچ ثابت کرنے اور دوسروں پر علمی رعب رکھنے کے لئے
اس ساری ذہنی بھاگ دوڑ میں ہم اپنی تخلیق کے مقصد کی خود ہی نفی کرتے جاتے ہیں اور زمین پر ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں رہ جاتے۔

آخری کہانی

"آخری کہانی"

یہ میری آخری کہانی ہے ۔۔۔۔

ایسا نہیں کہ اس کے بعد میں نے لکھنا چھوڑ دینا ہے
بس جینا چھوڑ دینا ہے
ایک مکمل نیند سلانے والی گولیوں کا پیکٹ اور پانی کا گلاس سامنے رکھے میں آپ سب سے مخاطب ہوں
ابھی پانی بھرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ایچ ٹو او کتنا  سیدھا سا فارمولہ ہے پانی کا
اے کاش کہ زندگی بھی کسی یکساں فارمولے کی اساس پر ہوتی
خیر اب ان باتوں میں کیا رکھا ہے اب تو میں  کچھ ہی دیر میں سو جاؤں گا
کبھی نہ جاگنے کے لئے ۔۔۔۔
شاید محشر میں بھی نہیں کیونکہ جن رشتوں کو دنیا میں تکلیف نہیں دے سکا ان کو روز محشر بھی خجالت اور شرمساری میں نہیں دیکھ پاؤں گا

تو آتے ہیں کہانی کی طرف

میں ریاض حسین ولد ۔۔۔ پر اس سے کیا فرق پڑنا ہے
کسی دور میں سوچا کرتا تھا کہ اگر میرے ولدیت میں موجودہ شخص کی جگہ کوئی اور ہوتا اور میں کہیں اور پیدا ہوا ہوتا تو کیا میں تب بھی ایسا ہی ہوتا یا میرا سکرپٹ کچھ اور طرح سے ہوتا میری عادات ، خصلت ، اور مرنے کی وجہ کچھ اور ہوتی ؟
پر اب جبکہ یہ سب کچھ اسی طرح سے ہو چکا تو اس سوال کا جواب ملنے سے بھی کچھ فرق نہیں پڑنا تھا اسی لئے میں نے سونے کا فیصلہ کر لیا
وہی نیند جو ایک مکمل اور مستقل لاشعوری کیفیت میں رکھے گی مجھے

ورنہ یہ سب سوال جو مجھے ناگ کی طرح ڈستے ہیں نہ پوری طرح سے جینے دیں گے نہ مکمل حالتِ مرگ میں جانے دیں گے

مجھے یاد ہے جب میں ابھی بچپن میں تھا تو ہمارے گھر ایک مانگنے والی بڑھیا  آیا کرتی تھی بالکل نیلی  زبان تھی اس کی

اسی سے سنا تھا کہ ساون بھادوں میں اگر کسی کو دومونہی سانپ کاٹ لے تو ہر سال پھر اسی مہینے اسے سانپ دوبارہ کاٹنے آتے ہیں چاہے وہ کہیں بھی چلا جائے اسی مخصوص مہینے میں اس کے جسم سے ایسی خوشبو اٹھنے لگتی ہے کہ سانپ کھنچے چلے آتے ہیں ۔

اس بات کی حقیقت سے مجھے کوئی غرض نہیں کیوں کہ مجھے اب صرف اپنے بارے میں سوچنا ہے آخری چند لمحے جن میں صرف میری اہمیت ہو تو میں یہی کہنا چاہتا تھا کہ مجھے کسی دومونہے سوال نے ڈس لیا تھا شاید ۔۔۔۔۔
نہیں  یقیناً مجھے اسی دومونہے اور زبان کو نیلا کر دینے والے کسی سوال نے ہی ڈسا تھا اور اب میرے جسم سے بھی ایسی مہک اٹھتی ہے کہ ہر رنگ و نسل کے سانپ مجھے ڈسنے کھنچے آتے ہیں
میں کہیں بھی چلا جاؤں وہ مجھے ڈس ہی لیتے ہیں ابھی بھی میرے پاؤں کے نیچے زمین سے سانپوں کی سرسراہٹ کا احساس ہو رہا ہے اور ابھی وہ میرے پیروں سے والہانہ لپٹ جائیں گے اور اپنے دانت میرے جسم میں گاڑ کر اپنا  زہر میرے اندر انڈیل جائیں گے

کسی کسی سوال کا سانپ تو اتنا زہریلا ہوتا ہے کہ ہڈیاں تک چیخنے اور چٹخنے  لگتی ہیں
مگر اب درد اور اذیت کے باوجود بجائے خوفزدہ ہونے کے کسی عادی نشئی کی طرح خود لذت اور تسکین پاتا ہوں

بہرحال ایک بات حتمی ہے کہ اگر میں ریاض حسین نہ ہوتا تو مجھے یہ زہریلے سانپ کبھی نہ ڈستے اور میں بھی دوسرے کامیاب اور مکمل لوگوں کی طرح جینے کا لطف حاصل کرتا اور سانس کے برداشت کے آخری کنارے تک قہقہے لگاتا جاتا اور  یوں کسی  خوف میں عمر رواں کا بہترین حصہ ضائع نہ کرتا 

میں نے خوفزدہ ہونا کب چھوڑا تھا مجھے ٹھیک طرح سے یاد نہیں مگر ہاں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں بہت زیادہ خوفزدہ کیا گیا انسان ہوں

پہلی بار کب خوفزدہ ہوا تھا اس بارے میں  کچھ مبہم سے خاکے ہیں مجھے اباجی سے بہت خوف آیا کرتا تھا جو بیدردی پیٹا کرتے تھے
مجھے اماں جی سے خوف آیا کرتا تھا جو مجھے یکسر نظرانداز کر کے اپنی زیادہ توجہ دوسرے بھائی بہنوں پر رکھتی تھیں
دو الگ اور متضاد انتہاؤں کا خوف
ایک طرف ترجیح اور مرکزیت میں رہنے کا
اور
دوسری طرف  بالکل الٹ ، نفی ، یکسر نفی
عدم وجودگی

سوال تو یہ بھی تھا کہ اگر میں یعنی ریاض حسین اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی دوسرے کی جگہ پیدا ہوا ہوتا تو کیا تب بھی مجھے دومونہا سانپ ڈس جاتا اور کیا تب بھی ساری زندگی ایسے ہی خوف کے سائے میں گزرتی ۔۔۔۔

خیر اب یہ معمہ حل ہو بھی جائے اور کھوج کا سرا مل بھی جائے کیا فرق پڑے گا
یہ کوئی ایک آدھ دفعہ کا قصہ نہیں پوری عمر لگی اس پانی کا گلاس بھرنے میں جس کا فارمولا ایچ ٹو او ہے اور جو انسانوں کی طرح اپنی طرح کے دوسرے پانیوں سے ذرا بھی مختلف نہیں

خوف ، ایک ایسا طاقتور ترین احساس جس کے تابع ہر کام سرانجام پا سکتا ہے

حتیٰ کہ آخری کہانی تک لکھی جا سکتی ہے
اسی خوف سے ڈر کر اپنی سخت محنت سے کمائی رقم کا بیشتر حصہ جس سے میں یعنی ریاض حسین دنیا کی خوشیاں اور راحتیں پا سکتا تھا وہ ماں باپ ، بیوی بچوں ، بھائیوں بہنوں اور ہماری مسجد کے مولوی صاحب پر خرچ ہو گئی کہ ان سب کا کام مجھے ایک دوسرے کا خوف دلا کر اپنی مزید خدمت پر مجبور کرنا رہا تھا اور میں ہمیشہ ناکردہ زیادتیوں اور گناہوں کے ازالے اور کفارے ادا کرنے میں مصروف رہا
وہی خوف جو اعتماد اور اعتبار کی بنیادیں ہلا دیتا ہے ۔ جو رشتوں کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے
جو ہمیشہ بے یقینی میں مبتلا رکھتا ہے اور کسی بھی شے کے ملکیت میں ہوتے ہوئے بھی صرف ایک عارضی زیر تصرف چیز ہونے کا احساس دیتا ہے

میں ریاض حسین ایک ہمیشہ خوفزدہ کیا گیا انسان
جسے بہت پہلے ایک دو مونہہ والا سانپ ڈس گیا تھا
ایک آسیب زدہ انسان
جسے ہوش سنبھالتے ہی مغوی بنا لیا گیا تھا
ایک ہمیشہ ہراساں رکھا گیا انسان
جو معاشرے میں کامیاب رہنے کے تمام گُر جانتا تھا
مگر ایک ڈسا ہوا خوف و ہراس میں مبتلا بزدل انسان اپنی موت آپ مر تو سکتا ہے کامیاب نہیں ہو سکتا
قطعی ناممکن
جو ہمت اور اعتماد دنیاوی چالبازیوں کے لئے درکار ہوتی ہے وہ تو بہت پہلے سیمی کے ساتھ ہی جا چکی تھی

سیمی جسے میں دل و جان سے چاہا کرتا تھا
ایک واحد رشتہ جسے وہ اس کی شادی کے کئی سال بعد تک بھی بےقصور اور فرشتوں سا معصوم سمجھتا رہا
جسے آج تک بھی یہ علم نہیں کہ ریاض حسین نامی ایک شخص کتنے سالوں سے اسے اپنے تصور کی دنیا میں سجائے بیٹھا ہے
جو ساری ساری رات خیالوں میں اس سے اتنی باتیں کر چکا ہے کہ کسی چاہنے والے نے آج تک نہ کی ہوں گی
ایسی ان کہی باتیں
دنیا جہان سے ماورا باتیں
کسی دور دراز گھاٹی میں بہہ رہے چشمے کے میٹھے پانی جیسی باتیں
وہی پانی جس کی اساس بھی ایچ ٹو او ہی ہے مگر اس کی مٹھاس اس کے ذائقے کا کنوار پن جسے سورج کی روشنی تک جھوٹا نہیں کر پائی ہو اب تک
سیمی کو میں نے ایک شادی میں دیکھا تھا
بالکل معصوم اور پاکیزہ دِکھنے والی ایک نوعمر لڑکی جس کا خام ہونا ہی میرے لئے طمانیت کا باعث تھا جسے دیکھتے ہی میں اپنے خیالوں میں بسا چکا تھا مگر اظہار کی ہمت نہیں کر سکا تھا
میں اسے ہمیشہ ان چھوئی ہی دیکھنا چاہتا تھا
اظہار تک سے پاک
اس دن شادی میں سیمی کو دیکھتے ہی مجھے پہلی بار اپنے ہونے کا احساس ہوا تھا میں نے فوراً اپنے سویٹر کی سلوٹیں ٹھیک کیں اپنے بالوں کو انگلیوں سے برش کر کے درست کیا
اور نمایاں ہونے کی خواہش میں ایک کونے میں جا کے سب مہمانوں سے الگ تھلگ کھڑا ہو گیا
شائد میں محبت کی کیمسٹری پر یقین رکھے بیٹھا تھا جو خودکار نظام کے تحت دو روحوں کو ایک دوسرے کی طرف کھنچنے پر مجبور کرتی ہے

مگر کسی بھی قسم کی ستائش نہ پا کر بھی مجھے ایک روحانی طمانیت کا احساس تھا

جو اس کی شادی کی خبر سن کر بھی قائم رہی کہ سچی محبت میں حاصل ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا مگر یہ خوشی اور طمانیت اس منحوس دن تک رہ سکی جب مجھے بھنک ملی کہ کالج آتے جاتے کیسے اس مکار شخص نے اس معصوم کو  پھانس لیا تھا

میں شاید رشتوں کو نوزائیدہ بچے کے پروان چڑھنے جیسے قدرتی بڑھوتری کے تابع عمل کا قائل تھا جو اس منحوس دن اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا

میں ریاض حسین ابھی تک اس دو مونہہ والے سانپ سے مسلسل ڈسا جا رہا ہوں کہ کیا ہوتا اگر میں اظہار کر دیتا یا اس مکار شخص کی طرح سیمی کو اپنے مکر و فریب میں پھانس لیتا تو کیا آج یہ پانی کا گلاس میرے لئے بھرا جاتا ؟

خیر اب ان باتوں سے کیا حاصل
میں اپنے آخری سگریٹ کو سلگا چکا ہوں
اور انگلیوں کو قلم پکڑے اپنی آخری کہانی لکھتے دیکھ رہا ہوں
آج پہلی بار میرے ہاتھوں میں لرزش نہیں 
مجھے قطعی بےیقینی نہیں ہے
کہ جو میں کرنے جا رہا ہوں
اس میں ناکامیاب رہوں گا
آخری سگریٹ کا آخری کش لگا چکا میں ریاض حسین ۔۔
جو اپنی آخری کہانی لکھتے ہوئے ذرا بھی خوف میں مبتلا  نہیں
کیوں کہ اب اس کے بعد مجھے نیند ملنے والی ہے
ایک گہری پُرسکون اور مکمل نیند
جو مجھے زندگی میں پہلے کبھی نصیب نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔!

چئیرمین اور مشوق

" چئیرمین "

"اوئے چئیرمین تیری مشوق نس گئی"

چئیرمین ہمارے آبائی شہر کا بہت پرانا کردار ہے
پولیو زدہ ایک بازو اور ٹانگ کے ساتھ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہو گیا اسے اخبار تقسیم کرتے
صبح صبح اخبار بانٹنے کے بعد اس کا مشغلہ ہے شہر بھر کی چند مخصوص گلیوں اور بازاروں سے گزرنا جہاں لوگ شدت سے اس کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں اور اسے دیکھتے ہی آوازیں لگانا شروع کر دیتے ہیں "اوئے چئیرمین تیری مشوق کسے ہور نال پج گئی"
اور چئیرمین جو کہ پہلے سے منتظر ہوتا ہے ان آوازوں کا فورا انہیں گالیاں نکالنی شروع کر دیتا ہے
لوگ اکٹھے ہوتے جاتے ہیں آوازیں جمع ہوتی جاتی ہیں چئیرمین اور زیادہ ہیجانی کیفیت کا شکار ہوتا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو پتھر بھی اٹھا کے مار دیتا ہے
کوئی گھنٹہ بھر یہ تماشا لگا رہتا ہے
پھر چئیرمین تھک کر اسی دوکاندار کے پھٹے پر بیٹھ کر رونا شروع کر دیتا ہے جو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ چھیڑخانی کرتا ہے  ہچکیاں لیتے چئیرمین کے یہی مخصوص الفاظ ہوتے ہیں کہ  "اک میری مشوق دھوکہ کر گئی اوپروں ایہہ سارے بےغیرت میرا تماشا کر دے نیں"
چئیرمین کے لئے فورا چائے منگوائی جاتی ہے اور سب اس کے گرد دائرہ بنا کر اس کے ہمدرد بن کر دکھڑے سننے لگتے ہیں

یہ تماشا میں تیس سال سے دیکھ رہا ہوں اب اس میں ایک اضافہ ہو گیا کہ اس فرضی معشوق سے چئیرمین کی ایک فرضی بیٹی بھی بھاگ گئی ہوتی ہے اور اس کا الزام روز کسی نہ کسی بڑے سیاستدان پر لگا کر اسے چھیڑا جاتا ہے اور پھر چئیرمین کی زبانی اس سیاستدان کو گالیاں نکلوائی جاتی ہیں

اس ساری کہانی کے دو پہلو سب سے مزاحیہ ہیں
ایک یہ کہ جس دن اسے کوئی نہ چھیڑے وہ خود جا کر لوگوں سے چھیڑخانی کرتا ہے اور انہیں گلیوں سے بار بار گزرتا ہے جہاں کے لوگ اسے تنگ کرتے اور چھیڑتے ہیں
دوسرا پہلو یہ کہ چئیرمین ازلوں سے تنہا ہے کوئی آگے پیچھے نہیں اور یہ معشوق والی کہانی بھی گھڑی گھڑائی ہے

چئیرمین صبح صبح کے اس مخصوص پیریڈ کے پھر بعد سارا  دن اپنی اس فرضی معشوق کی بےوفائی اور اس کی فرضی بیٹی کی بدنامی کے غم میں آزردہ و آبدیدہ رہتا ہے لوگ ابھی بھی اسے چھیڑ کر شغل تماشا لگاتے ہیں اور پھر اس کے غم میں شریک بھی ہو جاتے ہیں ۔۔

حج اکبر

شام کے سائے گھنے بادلوں کے ہمراہ تیزی سے بڑھتے چلے آ رہے تھے
بشیر احمد تیزی سے سائیکل چلاتا اپنے گاوں کی طرف رواں تھا اس کی کوشش تھی کہ بارش شروع ہونے سے پہلے اپنے گھر پہنچ جائے
پرندوں کی ڈاریں بھی تیزی سے اس کے سر کے اوپر سے گزر رہی تھیں جو صبح سے رزق کی تلاش میں اپنے اپنے گھونسلوں سے پرواز بھر کر نکلے تھے
بشیر احمد ان کو دیکھ کر ہمیشہ عجیب احساسات میں گھر جاتا تھا۔
وہ روز ان کے ساتھ ہی گھر چھوڑ کر رزق کی خاطر نکلتا ہے مگر شام کو تھکا ہارا اور پریشان کر دینے والی سوچوں میں الجھا ہوا گھر واپس جاتا ہے جبکہ یہ پرندے ہمیشہ ایسے ہی پرجوش اور چہچہاتے واپس آتے ہیں جیسے سند باد اپنی سمندری مہم سے واپس آ رہا ہو نئے بھیدوں اور اسراروں سے بھرپور اور کل کی فکر سے لاپرواہ۔

گھر پہنچتے بارش شروع ہو چکی تھی تھی بشیر احمد سائیکل صحن میں چھوڑ کر بھاگا بھاگا صحن کی نکر پر بنے چھپر تلے جا بیٹھا شہناز نے اسے دیکھتے ہی چولہے میں آگ سلگانی شروع کر دینی تھی
شہناز سے اس کی شادی ہوئے چار سال ہو گئے تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی رفاقت میں بہت خوش تھے سال پہلے ہی اللہ نے انہیں ایک چاند سا بیٹا بھی دیا تھا

بشیرے کن سوچوں میں گم ہو خیر تو ہے نا
شہناز کی آواز اسے خیالات کی دنیا سے کھینچ لائی تو اس نے جلدی سے سامنے پڑی روٹی سے لقمے توڑ کر کھانے شروع کر دیے اور شہناز سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا
وہ اپنے شوہر کی طبعیت سے واقف تھی اور یہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر آنے والے وقت سے ہمیشہ کس قدر خوفزدہ رہتا ہے
پہلے اکیلا تھا تو کچھ مالی آسائش تھی پھر دو ہوئے اور اب تو ایک سال کا بیٹا بھی ہے
شہناز نے خاموشی سے برتن سمیٹے اور باقی کام نپٹانے لگی
بشیر احمد کھانا کھا کر بستر میں گھس گیا باہر بارش اور تیز ہو گئی تھی بشیرے کی کب آنکھ لگی اسے کچھ خبر نہ ہوئی

صبح کام پر جاتے ہوئے شہناز نے بتایا کہ ارسلان کو تیز بخار چڑھا ہوا ہے گاوں میں بنے چھوٹے سے میڈیکل سٹور والے سے دوا لائی ہوں اس نے کہا کہ موسمی بخار ہے آرام آ جائے گا مگر میرے دل کو سکون نہیں وہاں کام پر جاتے ہوئے کسی بڑے ڈاکٹر کا پتہ ضرور کرنا
بشیر اپنے بیٹے کا ماتھا چوم کر گھر سے کام پر روانہ ہوا
گاوں سے چند کلومیٹر دور چھوٹا سا شہر تھا جہاں کسی سیٹھ کے ہاں وہ حساب کتاب کی ملازمت کرتا تھا

سیٹھ کا موڈ آج کچھ بہتر لگ رہا تھا بشیر گودام کے حساب کتاب کا کام نپٹا کر سیٹھ کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ فون پر مصروف تھا
وہ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گیا
سیٹھ فون پر دوسری طرف تسلیاں دینے میں مشغول تھا
ہاں ہاں تم فکر نہ میں نے ایجنٹ سے پھر کنفرم کیا ہے سب سے مہنگا فائیو سٹار پیکیج لیا ہے بالکل بھی تکلیف نہیں ہو گی وہاں بیس لاکھ یونہی نہیں خرچ رہا صرف ہم دونوں کے حج پر بس تم بے فکر ہو کر تیاری شروع کرو ہم تین دن بعد روانہ ہو جائیں گے
ہاں بھئی بشیرے سیٹھ فون بند کر کے اس کی طرف متوجہ ہوا
سیٹھ جی کچھ پیسوں کی ضرورت تھی بشیر نے حوصلہ کر کے پریشانی بتا دی کہ بیٹا بیمار ہے اور بیوی کے مطابق اسے بڑے ڈاکٹر کو دکھانا چاہئے
بشیرے کی بات سنتے ہی سیٹھ کے ماتھے پر بل بنتے گئے
دیکھ بشیرے کام دھندا پہلے ہی چوپٹ ہے اوپر سے میں خود سفر پر جا رہا ہوں وہاں ضرورت کے لئے خرچ بھی لے کر جانا ہے
اگر دو چار سو سے گزارا ہوتا ہے تو دے سکتا ہوں ورنہ پہلے ہی تم پانچ ہزار تنخواہ سے زائد لے چکے ہو آج کے دور میں کون اتنا اعتماد کرتا ہے ملازموں پر
بشیر احمد ہر طرح کی منت کرنے کے باوجود سیٹھ کے کمرے سے مایوس لوٹا سارا دن بے دلی کے ساتھ کام ختم کر کے شام کو گھر پہنچا تو ارسلان کا بخار ویسے کا ویسا ہی تھا
پریشان حال میاں بیوی نے ساری رات جاگ کر گزاری صبح گھنٹہ بھر کو آنکھ لگی ہو گی کہ سورج نکل آیا بشیر بیمار بچے اور بیوی کو چھوڑ کر کام پر آ گیا
سیٹھ کا موڈ آج پتہ نہیں کیوں بگڑا ہوا تھا بات بات پر چیخ رہا تھا اور اسے طنز کر رہا تھا کہ میں جانتا ہوں ملازم پیشہ لوگوں کو بہت بڑے بہانے باز ہوتے ہیں ان کے خیال میں مالکوں کے درختوں پر نوٹ لگے ہوتے ہیں جہاں سے وہ توڑ توڑ کر انہیں دیتے رہیں شام تک بشیر سیٹھ سے کافی بے عزتی کروا چکا تھا
یہ تو شکر ہوا کہ اگلے دن کام سے چھٹی تھی
بشیر سارا دن اپنے بیٹے کے پاس رہا میڈیکل والے سے دوا لینے گیا تو اس نے کہہ دیا کہ مجھے لگتا ہے بچے کو نمونیہ ہو گیا ہے میرا مشورہ ہے کہ اسے کسی بڑے ڈاکٹر سے چیک کرواو
بشیر بےبسی کی صورت بنا ضد کر کے اسی سے دوا لے آیا کہ ایک آدھ دن میں جاتا ہوں ورنہ شاید ایسے ہی آرام آ جائے
اگلے دن کام پر گیا تو سیٹھ اپنی بیگم کے ساتھ حج پر روانہ ہو چکا تھا

چالیس دن کیسے گزرے کچھ پتہ نہیں چلا ایجنٹ نے واقعی پیسے حلال کئے تھے ورنہ آج کل لوگ کہتے کچھ ہیں اور نکلتا کچھ ہے ہر جگہ ہر موقع پر فائیو سٹار ماحول اور پھر زیارتوں کا بہترین انتظام بھئی واقعی لاجواب سفر رہا
واپس آتے ہی سیٹھ کام پر آیا تو دیکھا کہ بشیر احمد غائب ہے
پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس کا بیٹا نمونئے کی وجہ سے اللہ کو پیارا ہو گیا تھا اور بشیر احمد  پاگلوں کی سی کیفیت میں سارا دن گاؤں کے آس پاس کے ویرانوں میں اڑتے پرندوں کی ڈاروں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے
بس سیٹھ صاحب اس کی حالت دیکھی نہیں جاتی دوسرے ملازم نے بڑے آزردہ لہجے میں بتایا
سیٹھ نے لاپروائی سے کہا دیکھو لڑکے
مجھے آج تک ان لوگوں کی حماقت سمجھ نہیں آئی
بچے سنبھال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہیں مگر یہ لوگ چادر دیکھ کر پاوں نہیں پھیلاتے
خیر تم فٹافٹ تھانے جاو اور  ایس ایچ او کو آب زم زم اور کھجوروں کا پیکٹ دے کر آو
اور ہاں یاد سے بتا دینا کہ سیٹھ صاحب نے یہ عجوہ کھجور بطور خاص آپ کے لئے خریدی تھی ۔۔۔