" چئیرمین "
"اوئے چئیرمین تیری مشوق نس گئی"
چئیرمین ہمارے آبائی شہر کا بہت پرانا کردار ہے
پولیو زدہ ایک بازو اور ٹانگ کے ساتھ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہو گیا اسے اخبار تقسیم کرتے
صبح صبح اخبار بانٹنے کے بعد اس کا مشغلہ ہے شہر بھر کی چند مخصوص گلیوں اور بازاروں سے گزرنا جہاں لوگ شدت سے اس کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں اور اسے دیکھتے ہی آوازیں لگانا شروع کر دیتے ہیں "اوئے چئیرمین تیری مشوق کسے ہور نال پج گئی"
اور چئیرمین جو کہ پہلے سے منتظر ہوتا ہے ان آوازوں کا فورا انہیں گالیاں نکالنی شروع کر دیتا ہے
لوگ اکٹھے ہوتے جاتے ہیں آوازیں جمع ہوتی جاتی ہیں چئیرمین اور زیادہ ہیجانی کیفیت کا شکار ہوتا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو پتھر بھی اٹھا کے مار دیتا ہے
کوئی گھنٹہ بھر یہ تماشا لگا رہتا ہے
پھر چئیرمین تھک کر اسی دوکاندار کے پھٹے پر بیٹھ کر رونا شروع کر دیتا ہے جو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ چھیڑخانی کرتا ہے ہچکیاں لیتے چئیرمین کے یہی مخصوص الفاظ ہوتے ہیں کہ "اک میری مشوق دھوکہ کر گئی اوپروں ایہہ سارے بےغیرت میرا تماشا کر دے نیں"
چئیرمین کے لئے فورا چائے منگوائی جاتی ہے اور سب اس کے گرد دائرہ بنا کر اس کے ہمدرد بن کر دکھڑے سننے لگتے ہیں
یہ تماشا میں تیس سال سے دیکھ رہا ہوں اب اس میں ایک اضافہ ہو گیا کہ اس فرضی معشوق سے چئیرمین کی ایک فرضی بیٹی بھی بھاگ گئی ہوتی ہے اور اس کا الزام روز کسی نہ کسی بڑے سیاستدان پر لگا کر اسے چھیڑا جاتا ہے اور پھر چئیرمین کی زبانی اس سیاستدان کو گالیاں نکلوائی جاتی ہیں
اس ساری کہانی کے دو پہلو سب سے مزاحیہ ہیں
ایک یہ کہ جس دن اسے کوئی نہ چھیڑے وہ خود جا کر لوگوں سے چھیڑخانی کرتا ہے اور انہیں گلیوں سے بار بار گزرتا ہے جہاں کے لوگ اسے تنگ کرتے اور چھیڑتے ہیں
دوسرا پہلو یہ کہ چئیرمین ازلوں سے تنہا ہے کوئی آگے پیچھے نہیں اور یہ معشوق والی کہانی بھی گھڑی گھڑائی ہے
چئیرمین صبح صبح کے اس مخصوص پیریڈ کے پھر بعد سارا دن اپنی اس فرضی معشوق کی بےوفائی اور اس کی فرضی بیٹی کی بدنامی کے غم میں آزردہ و آبدیدہ رہتا ہے لوگ ابھی بھی اسے چھیڑ کر شغل تماشا لگاتے ہیں اور پھر اس کے غم میں شریک بھی ہو جاتے ہیں ۔۔
No comments:
Post a Comment