"آخری کہانی"
یہ میری آخری کہانی ہے ۔۔۔۔
ایسا نہیں کہ اس کے بعد میں نے لکھنا چھوڑ دینا ہے
بس جینا چھوڑ دینا ہے
ایک مکمل نیند سلانے والی گولیوں کا پیکٹ اور پانی کا گلاس سامنے رکھے میں آپ سب سے مخاطب ہوں
ابھی پانی بھرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ایچ ٹو او کتنا سیدھا سا فارمولہ ہے پانی کا
اے کاش کہ زندگی بھی کسی یکساں فارمولے کی اساس پر ہوتی
خیر اب ان باتوں میں کیا رکھا ہے اب تو میں کچھ ہی دیر میں سو جاؤں گا
کبھی نہ جاگنے کے لئے ۔۔۔۔
شاید محشر میں بھی نہیں کیونکہ جن رشتوں کو دنیا میں تکلیف نہیں دے سکا ان کو روز محشر بھی خجالت اور شرمساری میں نہیں دیکھ پاؤں گا
تو آتے ہیں کہانی کی طرف
میں ریاض حسین ولد ۔۔۔ پر اس سے کیا فرق پڑنا ہے
کسی دور میں سوچا کرتا تھا کہ اگر میرے ولدیت میں موجودہ شخص کی جگہ کوئی اور ہوتا اور میں کہیں اور پیدا ہوا ہوتا تو کیا میں تب بھی ایسا ہی ہوتا یا میرا سکرپٹ کچھ اور طرح سے ہوتا میری عادات ، خصلت ، اور مرنے کی وجہ کچھ اور ہوتی ؟
پر اب جبکہ یہ سب کچھ اسی طرح سے ہو چکا تو اس سوال کا جواب ملنے سے بھی کچھ فرق نہیں پڑنا تھا اسی لئے میں نے سونے کا فیصلہ کر لیا
وہی نیند جو ایک مکمل اور مستقل لاشعوری کیفیت میں رکھے گی مجھے
ورنہ یہ سب سوال جو مجھے ناگ کی طرح ڈستے ہیں نہ پوری طرح سے جینے دیں گے نہ مکمل حالتِ مرگ میں جانے دیں گے
مجھے یاد ہے جب میں ابھی بچپن میں تھا تو ہمارے گھر ایک مانگنے والی بڑھیا آیا کرتی تھی بالکل نیلی زبان تھی اس کی
اسی سے سنا تھا کہ ساون بھادوں میں اگر کسی کو دومونہی سانپ کاٹ لے تو ہر سال پھر اسی مہینے اسے سانپ دوبارہ کاٹنے آتے ہیں چاہے وہ کہیں بھی چلا جائے اسی مخصوص مہینے میں اس کے جسم سے ایسی خوشبو اٹھنے لگتی ہے کہ سانپ کھنچے چلے آتے ہیں ۔
اس بات کی حقیقت سے مجھے کوئی غرض نہیں کیوں کہ مجھے اب صرف اپنے بارے میں سوچنا ہے آخری چند لمحے جن میں صرف میری اہمیت ہو تو میں یہی کہنا چاہتا تھا کہ مجھے کسی دومونہے سوال نے ڈس لیا تھا شاید ۔۔۔۔۔
نہیں یقیناً مجھے اسی دومونہے اور زبان کو نیلا کر دینے والے کسی سوال نے ہی ڈسا تھا اور اب میرے جسم سے بھی ایسی مہک اٹھتی ہے کہ ہر رنگ و نسل کے سانپ مجھے ڈسنے کھنچے آتے ہیں
میں کہیں بھی چلا جاؤں وہ مجھے ڈس ہی لیتے ہیں ابھی بھی میرے پاؤں کے نیچے زمین سے سانپوں کی سرسراہٹ کا احساس ہو رہا ہے اور ابھی وہ میرے پیروں سے والہانہ لپٹ جائیں گے اور اپنے دانت میرے جسم میں گاڑ کر اپنا زہر میرے اندر انڈیل جائیں گے
کسی کسی سوال کا سانپ تو اتنا زہریلا ہوتا ہے کہ ہڈیاں تک چیخنے اور چٹخنے لگتی ہیں
مگر اب درد اور اذیت کے باوجود بجائے خوفزدہ ہونے کے کسی عادی نشئی کی طرح خود لذت اور تسکین پاتا ہوں
بہرحال ایک بات حتمی ہے کہ اگر میں ریاض حسین نہ ہوتا تو مجھے یہ زہریلے سانپ کبھی نہ ڈستے اور میں بھی دوسرے کامیاب اور مکمل لوگوں کی طرح جینے کا لطف حاصل کرتا اور سانس کے برداشت کے آخری کنارے تک قہقہے لگاتا جاتا اور یوں کسی خوف میں عمر رواں کا بہترین حصہ ضائع نہ کرتا
میں نے خوفزدہ ہونا کب چھوڑا تھا مجھے ٹھیک طرح سے یاد نہیں مگر ہاں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں بہت زیادہ خوفزدہ کیا گیا انسان ہوں
پہلی بار کب خوفزدہ ہوا تھا اس بارے میں کچھ مبہم سے خاکے ہیں مجھے اباجی سے بہت خوف آیا کرتا تھا جو بیدردی پیٹا کرتے تھے
مجھے اماں جی سے خوف آیا کرتا تھا جو مجھے یکسر نظرانداز کر کے اپنی زیادہ توجہ دوسرے بھائی بہنوں پر رکھتی تھیں
دو الگ اور متضاد انتہاؤں کا خوف
ایک طرف ترجیح اور مرکزیت میں رہنے کا
اور
دوسری طرف بالکل الٹ ، نفی ، یکسر نفی
عدم وجودگی
سوال تو یہ بھی تھا کہ اگر میں یعنی ریاض حسین اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی دوسرے کی جگہ پیدا ہوا ہوتا تو کیا تب بھی مجھے دومونہا سانپ ڈس جاتا اور کیا تب بھی ساری زندگی ایسے ہی خوف کے سائے میں گزرتی ۔۔۔۔
خیر اب یہ معمہ حل ہو بھی جائے اور کھوج کا سرا مل بھی جائے کیا فرق پڑے گا
یہ کوئی ایک آدھ دفعہ کا قصہ نہیں پوری عمر لگی اس پانی کا گلاس بھرنے میں جس کا فارمولا ایچ ٹو او ہے اور جو انسانوں کی طرح اپنی طرح کے دوسرے پانیوں سے ذرا بھی مختلف نہیں
خوف ، ایک ایسا طاقتور ترین احساس جس کے تابع ہر کام سرانجام پا سکتا ہے
حتیٰ کہ آخری کہانی تک لکھی جا سکتی ہے
اسی خوف سے ڈر کر اپنی سخت محنت سے کمائی رقم کا بیشتر حصہ جس سے میں یعنی ریاض حسین دنیا کی خوشیاں اور راحتیں پا سکتا تھا وہ ماں باپ ، بیوی بچوں ، بھائیوں بہنوں اور ہماری مسجد کے مولوی صاحب پر خرچ ہو گئی کہ ان سب کا کام مجھے ایک دوسرے کا خوف دلا کر اپنی مزید خدمت پر مجبور کرنا رہا تھا اور میں ہمیشہ ناکردہ زیادتیوں اور گناہوں کے ازالے اور کفارے ادا کرنے میں مصروف رہا
وہی خوف جو اعتماد اور اعتبار کی بنیادیں ہلا دیتا ہے ۔ جو رشتوں کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے
جو ہمیشہ بے یقینی میں مبتلا رکھتا ہے اور کسی بھی شے کے ملکیت میں ہوتے ہوئے بھی صرف ایک عارضی زیر تصرف چیز ہونے کا احساس دیتا ہے
میں ریاض حسین ایک ہمیشہ خوفزدہ کیا گیا انسان
جسے بہت پہلے ایک دو مونہہ والا سانپ ڈس گیا تھا
ایک آسیب زدہ انسان
جسے ہوش سنبھالتے ہی مغوی بنا لیا گیا تھا
ایک ہمیشہ ہراساں رکھا گیا انسان
جو معاشرے میں کامیاب رہنے کے تمام گُر جانتا تھا
مگر ایک ڈسا ہوا خوف و ہراس میں مبتلا بزدل انسان اپنی موت آپ مر تو سکتا ہے کامیاب نہیں ہو سکتا
قطعی ناممکن
جو ہمت اور اعتماد دنیاوی چالبازیوں کے لئے درکار ہوتی ہے وہ تو بہت پہلے سیمی کے ساتھ ہی جا چکی تھی
سیمی جسے میں دل و جان سے چاہا کرتا تھا
ایک واحد رشتہ جسے وہ اس کی شادی کے کئی سال بعد تک بھی بےقصور اور فرشتوں سا معصوم سمجھتا رہا
جسے آج تک بھی یہ علم نہیں کہ ریاض حسین نامی ایک شخص کتنے سالوں سے اسے اپنے تصور کی دنیا میں سجائے بیٹھا ہے
جو ساری ساری رات خیالوں میں اس سے اتنی باتیں کر چکا ہے کہ کسی چاہنے والے نے آج تک نہ کی ہوں گی
ایسی ان کہی باتیں
دنیا جہان سے ماورا باتیں
کسی دور دراز گھاٹی میں بہہ رہے چشمے کے میٹھے پانی جیسی باتیں
وہی پانی جس کی اساس بھی ایچ ٹو او ہی ہے مگر اس کی مٹھاس اس کے ذائقے کا کنوار پن جسے سورج کی روشنی تک جھوٹا نہیں کر پائی ہو اب تک
سیمی کو میں نے ایک شادی میں دیکھا تھا
بالکل معصوم اور پاکیزہ دِکھنے والی ایک نوعمر لڑکی جس کا خام ہونا ہی میرے لئے طمانیت کا باعث تھا جسے دیکھتے ہی میں اپنے خیالوں میں بسا چکا تھا مگر اظہار کی ہمت نہیں کر سکا تھا
میں اسے ہمیشہ ان چھوئی ہی دیکھنا چاہتا تھا
اظہار تک سے پاک
اس دن شادی میں سیمی کو دیکھتے ہی مجھے پہلی بار اپنے ہونے کا احساس ہوا تھا میں نے فوراً اپنے سویٹر کی سلوٹیں ٹھیک کیں اپنے بالوں کو انگلیوں سے برش کر کے درست کیا
اور نمایاں ہونے کی خواہش میں ایک کونے میں جا کے سب مہمانوں سے الگ تھلگ کھڑا ہو گیا
شائد میں محبت کی کیمسٹری پر یقین رکھے بیٹھا تھا جو خودکار نظام کے تحت دو روحوں کو ایک دوسرے کی طرف کھنچنے پر مجبور کرتی ہے
مگر کسی بھی قسم کی ستائش نہ پا کر بھی مجھے ایک روحانی طمانیت کا احساس تھا
جو اس کی شادی کی خبر سن کر بھی قائم رہی کہ سچی محبت میں حاصل ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا مگر یہ خوشی اور طمانیت اس منحوس دن تک رہ سکی جب مجھے بھنک ملی کہ کالج آتے جاتے کیسے اس مکار شخص نے اس معصوم کو پھانس لیا تھا
میں شاید رشتوں کو نوزائیدہ بچے کے پروان چڑھنے جیسے قدرتی بڑھوتری کے تابع عمل کا قائل تھا جو اس منحوس دن اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا
میں ریاض حسین ابھی تک اس دو مونہہ والے سانپ سے مسلسل ڈسا جا رہا ہوں کہ کیا ہوتا اگر میں اظہار کر دیتا یا اس مکار شخص کی طرح سیمی کو اپنے مکر و فریب میں پھانس لیتا تو کیا آج یہ پانی کا گلاس میرے لئے بھرا جاتا ؟
خیر اب ان باتوں سے کیا حاصل
میں اپنے آخری سگریٹ کو سلگا چکا ہوں
اور انگلیوں کو قلم پکڑے اپنی آخری کہانی لکھتے دیکھ رہا ہوں
آج پہلی بار میرے ہاتھوں میں لرزش نہیں
مجھے قطعی بےیقینی نہیں ہے
کہ جو میں کرنے جا رہا ہوں
اس میں ناکامیاب رہوں گا
آخری سگریٹ کا آخری کش لگا چکا میں ریاض حسین ۔۔
جو اپنی آخری کہانی لکھتے ہوئے ذرا بھی خوف میں مبتلا نہیں
کیوں کہ اب اس کے بعد مجھے نیند ملنے والی ہے
ایک گہری پُرسکون اور مکمل نیند
جو مجھے زندگی میں پہلے کبھی نصیب نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔!