Sunday, 31 March 2019

عالم برزخ

ابھی رات کو بازار کچھ سامان لینے گیا تو وہاں  بیٹھا ایک بندہ بڑے جذباتی انداز میں اپنے دوستوں کو عالم برزخ پر لیکچر دے رہا تھا

کچھ دن پہلے میں اس کے محلے سے گزر رہا تھا تو اس کے پڑوسی نے گزرتے دیکھا اور آواز دے کر اپنی پرانی کریانے کی دوکان کے اندر بلایا اور خود بھی باہر والے بنچ سے اٹھ کر اندر آ گیا
میں بیس سال سے اتنی دور اس کی دوکان سے دہی لانے جایا کرتا تھا کہ اس کا دہی بہت خالص اور گھر کے دہی جیسا ہوا کرتا تھا ابھی تین چار پہلے ہی جانا چھوڑا تھا
اس کی حالت کچھ عجیب سی لگ رہی تھی 
فالج کے اثرات اور پھر بڑھاپا
اس نے لرزتی اور اٹکتی آواز میں بات شروع کی بیماری اور گھریلو حالات بیان کئے
جب اس بندے نے آنکھیں نیچی کر کے آخری جملہ کہا کہ چھوٹے بھائی کسی کو بتانا نہیں
جتنی بےبسی اس وقت اس شریف آدمی کی میں نے محسوس کی  بیان سے باہر ہے
آج اس سے بھی زیادہ غصہ اور نفرت اس بندے سے ہوئی جس کا پڑوسی اس حال میں ہے اور یہ چوک میں دوستوں کو برزخ کا حال بیان کر رہا ہے۔
ہماری سوچ کی پرواز عالم برزخ اور عالم لاہوت سے نیچے ہی نہیں آ رہی کہ ہم اپنے ارد گرد کے حالات سے بھی آگاہ رہ سکیں
پڑوسی کے حقوق جس کا ہمیں سختی سے حکم ہے اسے چھوڑ کر لایعنی باتیں جن کا ہمارے اعمال اور حساب کتاب سے کوئی تعلق نہیں ان میں الجھے ہوئے ہیں۔
جو عقل و فہم ہمیں ہمارے فرائض سے غافل کردے وہ سراسر جہالت کہلائے گی  دانشوری نہیں
قران مجید اور احادیث بھری پڑی ہیں  ہمارے حقوق اور فرائض کے متعلق مگر انہیں بھی ہم نے صرف قسمیں کھانے اور حلف دینے یا دوسروں کو کافر قرار دینے کا ایک سہارہ بنا کے رکھا ہوا ہے اس سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں دیتے۔
فکر و تدبر جس کام ہمیں حکم دیا گیا تھا وہ ہم یا تو کرتے نہیں اور اگر کرتے ہیں تو خودپسندی کے زیر اثر اپنی ذاتی سوچ کو کسی بھی طرح سچ ثابت کرنے اور دوسروں پر علمی رعب رکھنے کے لئے
اس ساری ذہنی بھاگ دوڑ میں ہم اپنی تخلیق کے مقصد کی خود ہی نفی کرتے جاتے ہیں اور زمین پر ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں رہ جاتے۔

No comments:

Post a Comment