Sunday, 31 March 2019

حج اکبر

شام کے سائے گھنے بادلوں کے ہمراہ تیزی سے بڑھتے چلے آ رہے تھے
بشیر احمد تیزی سے سائیکل چلاتا اپنے گاوں کی طرف رواں تھا اس کی کوشش تھی کہ بارش شروع ہونے سے پہلے اپنے گھر پہنچ جائے
پرندوں کی ڈاریں بھی تیزی سے اس کے سر کے اوپر سے گزر رہی تھیں جو صبح سے رزق کی تلاش میں اپنے اپنے گھونسلوں سے پرواز بھر کر نکلے تھے
بشیر احمد ان کو دیکھ کر ہمیشہ عجیب احساسات میں گھر جاتا تھا۔
وہ روز ان کے ساتھ ہی گھر چھوڑ کر رزق کی خاطر نکلتا ہے مگر شام کو تھکا ہارا اور پریشان کر دینے والی سوچوں میں الجھا ہوا گھر واپس جاتا ہے جبکہ یہ پرندے ہمیشہ ایسے ہی پرجوش اور چہچہاتے واپس آتے ہیں جیسے سند باد اپنی سمندری مہم سے واپس آ رہا ہو نئے بھیدوں اور اسراروں سے بھرپور اور کل کی فکر سے لاپرواہ۔

گھر پہنچتے بارش شروع ہو چکی تھی تھی بشیر احمد سائیکل صحن میں چھوڑ کر بھاگا بھاگا صحن کی نکر پر بنے چھپر تلے جا بیٹھا شہناز نے اسے دیکھتے ہی چولہے میں آگ سلگانی شروع کر دینی تھی
شہناز سے اس کی شادی ہوئے چار سال ہو گئے تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی رفاقت میں بہت خوش تھے سال پہلے ہی اللہ نے انہیں ایک چاند سا بیٹا بھی دیا تھا

بشیرے کن سوچوں میں گم ہو خیر تو ہے نا
شہناز کی آواز اسے خیالات کی دنیا سے کھینچ لائی تو اس نے جلدی سے سامنے پڑی روٹی سے لقمے توڑ کر کھانے شروع کر دیے اور شہناز سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا
وہ اپنے شوہر کی طبعیت سے واقف تھی اور یہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر آنے والے وقت سے ہمیشہ کس قدر خوفزدہ رہتا ہے
پہلے اکیلا تھا تو کچھ مالی آسائش تھی پھر دو ہوئے اور اب تو ایک سال کا بیٹا بھی ہے
شہناز نے خاموشی سے برتن سمیٹے اور باقی کام نپٹانے لگی
بشیر احمد کھانا کھا کر بستر میں گھس گیا باہر بارش اور تیز ہو گئی تھی بشیرے کی کب آنکھ لگی اسے کچھ خبر نہ ہوئی

صبح کام پر جاتے ہوئے شہناز نے بتایا کہ ارسلان کو تیز بخار چڑھا ہوا ہے گاوں میں بنے چھوٹے سے میڈیکل سٹور والے سے دوا لائی ہوں اس نے کہا کہ موسمی بخار ہے آرام آ جائے گا مگر میرے دل کو سکون نہیں وہاں کام پر جاتے ہوئے کسی بڑے ڈاکٹر کا پتہ ضرور کرنا
بشیر اپنے بیٹے کا ماتھا چوم کر گھر سے کام پر روانہ ہوا
گاوں سے چند کلومیٹر دور چھوٹا سا شہر تھا جہاں کسی سیٹھ کے ہاں وہ حساب کتاب کی ملازمت کرتا تھا

سیٹھ کا موڈ آج کچھ بہتر لگ رہا تھا بشیر گودام کے حساب کتاب کا کام نپٹا کر سیٹھ کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ فون پر مصروف تھا
وہ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گیا
سیٹھ فون پر دوسری طرف تسلیاں دینے میں مشغول تھا
ہاں ہاں تم فکر نہ میں نے ایجنٹ سے پھر کنفرم کیا ہے سب سے مہنگا فائیو سٹار پیکیج لیا ہے بالکل بھی تکلیف نہیں ہو گی وہاں بیس لاکھ یونہی نہیں خرچ رہا صرف ہم دونوں کے حج پر بس تم بے فکر ہو کر تیاری شروع کرو ہم تین دن بعد روانہ ہو جائیں گے
ہاں بھئی بشیرے سیٹھ فون بند کر کے اس کی طرف متوجہ ہوا
سیٹھ جی کچھ پیسوں کی ضرورت تھی بشیر نے حوصلہ کر کے پریشانی بتا دی کہ بیٹا بیمار ہے اور بیوی کے مطابق اسے بڑے ڈاکٹر کو دکھانا چاہئے
بشیرے کی بات سنتے ہی سیٹھ کے ماتھے پر بل بنتے گئے
دیکھ بشیرے کام دھندا پہلے ہی چوپٹ ہے اوپر سے میں خود سفر پر جا رہا ہوں وہاں ضرورت کے لئے خرچ بھی لے کر جانا ہے
اگر دو چار سو سے گزارا ہوتا ہے تو دے سکتا ہوں ورنہ پہلے ہی تم پانچ ہزار تنخواہ سے زائد لے چکے ہو آج کے دور میں کون اتنا اعتماد کرتا ہے ملازموں پر
بشیر احمد ہر طرح کی منت کرنے کے باوجود سیٹھ کے کمرے سے مایوس لوٹا سارا دن بے دلی کے ساتھ کام ختم کر کے شام کو گھر پہنچا تو ارسلان کا بخار ویسے کا ویسا ہی تھا
پریشان حال میاں بیوی نے ساری رات جاگ کر گزاری صبح گھنٹہ بھر کو آنکھ لگی ہو گی کہ سورج نکل آیا بشیر بیمار بچے اور بیوی کو چھوڑ کر کام پر آ گیا
سیٹھ کا موڈ آج پتہ نہیں کیوں بگڑا ہوا تھا بات بات پر چیخ رہا تھا اور اسے طنز کر رہا تھا کہ میں جانتا ہوں ملازم پیشہ لوگوں کو بہت بڑے بہانے باز ہوتے ہیں ان کے خیال میں مالکوں کے درختوں پر نوٹ لگے ہوتے ہیں جہاں سے وہ توڑ توڑ کر انہیں دیتے رہیں شام تک بشیر سیٹھ سے کافی بے عزتی کروا چکا تھا
یہ تو شکر ہوا کہ اگلے دن کام سے چھٹی تھی
بشیر سارا دن اپنے بیٹے کے پاس رہا میڈیکل والے سے دوا لینے گیا تو اس نے کہہ دیا کہ مجھے لگتا ہے بچے کو نمونیہ ہو گیا ہے میرا مشورہ ہے کہ اسے کسی بڑے ڈاکٹر سے چیک کرواو
بشیر بےبسی کی صورت بنا ضد کر کے اسی سے دوا لے آیا کہ ایک آدھ دن میں جاتا ہوں ورنہ شاید ایسے ہی آرام آ جائے
اگلے دن کام پر گیا تو سیٹھ اپنی بیگم کے ساتھ حج پر روانہ ہو چکا تھا

چالیس دن کیسے گزرے کچھ پتہ نہیں چلا ایجنٹ نے واقعی پیسے حلال کئے تھے ورنہ آج کل لوگ کہتے کچھ ہیں اور نکلتا کچھ ہے ہر جگہ ہر موقع پر فائیو سٹار ماحول اور پھر زیارتوں کا بہترین انتظام بھئی واقعی لاجواب سفر رہا
واپس آتے ہی سیٹھ کام پر آیا تو دیکھا کہ بشیر احمد غائب ہے
پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس کا بیٹا نمونئے کی وجہ سے اللہ کو پیارا ہو گیا تھا اور بشیر احمد  پاگلوں کی سی کیفیت میں سارا دن گاؤں کے آس پاس کے ویرانوں میں اڑتے پرندوں کی ڈاروں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے
بس سیٹھ صاحب اس کی حالت دیکھی نہیں جاتی دوسرے ملازم نے بڑے آزردہ لہجے میں بتایا
سیٹھ نے لاپروائی سے کہا دیکھو لڑکے
مجھے آج تک ان لوگوں کی حماقت سمجھ نہیں آئی
بچے سنبھال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہیں مگر یہ لوگ چادر دیکھ کر پاوں نہیں پھیلاتے
خیر تم فٹافٹ تھانے جاو اور  ایس ایچ او کو آب زم زم اور کھجوروں کا پیکٹ دے کر آو
اور ہاں یاد سے بتا دینا کہ سیٹھ صاحب نے یہ عجوہ کھجور بطور خاص آپ کے لئے خریدی تھی ۔۔۔

No comments:

Post a Comment