Sunday, 31 March 2019

خان صاحب اور معیشت

کچھ سال پہلے کی بات ہے ھنڈا اٹلس نے نیا ون ٹو فائیو بائیک شائد ڈیلکس یا سپورٹس کے نام سے جب دیا تھا
اس نئے بائیک کا انجن پرانے ماڈل سے بہت مختلف اور پیچیدہ تھا
چھوٹے شہروں کے کاریگروں کی سمجھ اور مکینکی سے باہر تھا
ایک جاننے والے کے بائیک کے انجن کو مسئلہ بنا تو اس نے مقامی کئی کاریگروں سے مرمت کا پوچھا کسی نے حامی نہیں بھری ایک آٹو ورکشاپ والا جو فراغت اور مندے سے تنگ آیا ہوا تھا اس نے فورا ھاں کر دی

ایک دن کا وقت طے ہو گیا کہ کل اسی وقت تک بائیک تیار ہو گی
مقررہ وقت پر بائیک والا ورکشاپ پہنچا تو استاد نے فخریہ تیوروں سے اسے بتایا کہ پاء جی موٹرسیکل اے ون ہو گیا چیک کر لئو

اس نے بائیک کی چابی پکڑی اور کک ماری بائیک سٹارٹ ہو گیا مگر انجن کی آواز عجیب سی ہو گئی تھی پوچھنے پر استاد نے بتایا کہ پاء جی انجن نیا کیا ہے رننگ کے بعد ایڈجسٹ ہو کے ٹھیک ہو جائے گا
خیر بائیک والے نے بل ادا کیا اور جانے لگا تو ہینڈل کے ساتھ ایک شاپر لٹکتا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا لٹکا دیا ہے ورکشاپ والے نے کہا کہ جناب یہ کچھ اضافی گراریاں ڈالی تھیں کمپنی والوں نے کہ کبھی ضرورت پڑے تو کام آجائیں ساتھ ہی لٹکا دی ہیں سنبھال کے رکھ لینا کبھی ضرورت پڑ سکتی ہے
بائیک والے نے بائیک چلائی اور وہاں سے چلا گیا ٹھیک پانچ منٹ بعد بائیک کو دھکیلتا واپس آیا اور کہنے لگا کہ استاد یہ تو چوک تک مشکل سے پہنچی انجن سے کچھ ٹوٹنے کی آوازیں آئیں اور بائیک رک گئی

خیر اس کے بعد ہفتہ بھر کی مشقت سے بھی کام ٹھیک نہ ہوا آخر بائیک کمپنی کی ڈیلرشپ پر لیجائی گئی تو پتہ چلا کہ گاوں کے مکینک کو انجن کی سمجھ نہیں تھی وہ انجن کو کھول تو بیٹھا مگر بند کرتے وقت اپنی فہم کے مطابق جیسے سیٹ ہوا کر دیا جن گراریوں کی سمجھ نہیں آئی انہیں اضافی سمجھ کر شاپر میں ڈال کر ہینڈل کے ساتھ ہی لٹکا دیں یوں تھوڑی دیر چلنے کے بعد انجن کا کباڑہ ہو گیا

عمران خان صاحب پالیسیز اور ان کی ٹیم خاص کر اسد عمر کو دیکھ کر آج وہ اضافی گراریاں یاد آ گئیں

اللہ اس ملک پر رحم کرے

No comments:

Post a Comment