کچھ سال پہلے کی بات ہے ھنڈا اٹلس نے نیا ون ٹو فائیو بائیک شائد ڈیلکس یا سپورٹس کے نام سے جب دیا تھا
اس نئے بائیک کا انجن پرانے ماڈل سے بہت مختلف اور پیچیدہ تھا
چھوٹے شہروں کے کاریگروں کی سمجھ اور مکینکی سے باہر تھا
ایک جاننے والے کے بائیک کے انجن کو مسئلہ بنا تو اس نے مقامی کئی کاریگروں سے مرمت کا پوچھا کسی نے حامی نہیں بھری ایک آٹو ورکشاپ والا جو فراغت اور مندے سے تنگ آیا ہوا تھا اس نے فورا ھاں کر دی
ایک دن کا وقت طے ہو گیا کہ کل اسی وقت تک بائیک تیار ہو گی
مقررہ وقت پر بائیک والا ورکشاپ پہنچا تو استاد نے فخریہ تیوروں سے اسے بتایا کہ پاء جی موٹرسیکل اے ون ہو گیا چیک کر لئو
اس نے بائیک کی چابی پکڑی اور کک ماری بائیک سٹارٹ ہو گیا مگر انجن کی آواز عجیب سی ہو گئی تھی پوچھنے پر استاد نے بتایا کہ پاء جی انجن نیا کیا ہے رننگ کے بعد ایڈجسٹ ہو کے ٹھیک ہو جائے گا
خیر بائیک والے نے بل ادا کیا اور جانے لگا تو ہینڈل کے ساتھ ایک شاپر لٹکتا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا لٹکا دیا ہے ورکشاپ والے نے کہا کہ جناب یہ کچھ اضافی گراریاں ڈالی تھیں کمپنی والوں نے کہ کبھی ضرورت پڑے تو کام آجائیں ساتھ ہی لٹکا دی ہیں سنبھال کے رکھ لینا کبھی ضرورت پڑ سکتی ہے
بائیک والے نے بائیک چلائی اور وہاں سے چلا گیا ٹھیک پانچ منٹ بعد بائیک کو دھکیلتا واپس آیا اور کہنے لگا کہ استاد یہ تو چوک تک مشکل سے پہنچی انجن سے کچھ ٹوٹنے کی آوازیں آئیں اور بائیک رک گئی
خیر اس کے بعد ہفتہ بھر کی مشقت سے بھی کام ٹھیک نہ ہوا آخر بائیک کمپنی کی ڈیلرشپ پر لیجائی گئی تو پتہ چلا کہ گاوں کے مکینک کو انجن کی سمجھ نہیں تھی وہ انجن کو کھول تو بیٹھا مگر بند کرتے وقت اپنی فہم کے مطابق جیسے سیٹ ہوا کر دیا جن گراریوں کی سمجھ نہیں آئی انہیں اضافی سمجھ کر شاپر میں ڈال کر ہینڈل کے ساتھ ہی لٹکا دیں یوں تھوڑی دیر چلنے کے بعد انجن کا کباڑہ ہو گیا
عمران خان صاحب پالیسیز اور ان کی ٹیم خاص کر اسد عمر کو دیکھ کر آج وہ اضافی گراریاں یاد آ گئیں
اللہ اس ملک پر رحم کرے
No comments:
Post a Comment