Sunday, 31 March 2019

تیر تُکا

تِیر تُکّا

چودھری صاحب اپنی زمینوں پر درخت کے نیچے رنگلی چارپائی پر آرام فرما رہے تھے کہ اچانک کھیتوں میں گاؤں کا میراثی اپنی نئی نویلی دلہن کو سیر کرواتا نظر آیا
چودھری نے  اسے پاس بلایا اور آگ بگولا ہو کر پوچھا  اوئے تیری جرات کیسے ہوئی ادھر سے گزرنے کی ساری فصل کا ستیاناس کر دیا
میراثی نے ہاتھ جوڑ کر منت سماجت کی کہ سرکار نویں ووہٹی کو گاؤں دکھانے نکلا تھا
پر چودھری کا غُصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اپنے پاس پڑا تیر کمان اٹھایا اور ہوا میں پورے زور سے تیر چھوڑ دیا میراثی کو سزا کے طور پر دور کھڑی فصلوں سے تیر ڈھونڈ کے لانے کا حُکم دیا
وہ غریب چودھری کی فطرت سے واقف تھا پر چارو ناچار حُکم کی تعمیل کرنی پڑی اور میراثن کو وہیں چھوڑ کے تیر ڈھونڈنے نکل پڑا ، کافی دیر کی تلاش بسیار کے بعد تیر ڈھونڈ کے چودھری کی خدمت میں حاضر ہوا اور اڑی رنگت لئے حواس باختہ کھڑی اپنی بیوی کو سر جھُکائے لے کر چلا گیا
کُچھ مہینوں کے بعد ایک دن پھر میراثی اکیلا اسی کھیت سے گُزر رہا تھا کہ چودھری اپنی چارپائی پر لیٹا نظر آیا ، چودھری نے میراثی کو اکیلے جاتے دیکھا تو مایوسی اور حقارت سے مُنہ پھیر کے لیٹا رہا
میراثی خود چودھری کے پاس چلا گیا اور اگلی پچھلی نسلوں کو بھاگ لگے رہنے کی دعا دینے کے بعد  ایک سوال پوچھنے کی اجازت مانگی ، چودھری نے بیزاری سے کہا بک کیا بکنا ہے تو میراثی نے ہاتھ جوڑ کے پوچھا کہ "چودھری جی آپ کی شادی ہو گئی ہے یا ابھی تک تِیر تُکّے پر ہی ہیں"

کُچھ ایسا ہی معاملہ آج کل سعودیہ یمن معاملے پر پاکستان سے پیش آ رہا ہے ، ایک طرف پڑوسی ممالک کی سازشیں اور دوسری طرف دوست ممالک کا دباؤ یعنی ایران بمقابلہ سعودی عرب کے نام سے جاری کھیل میں زبردستی کی شراکت داری۔

سعودیہ بے شک معاشی طور پر مضبوط ترین ریاست ہے اور تیل خیزی میں اپنی مثال آپ ہے مگر بد قسمتی سے تِیر تُکّے والی چودھراہٹ سے باہر نہیں نکل پایا۔
میں تاریخ ، سیاست ، معاشرت یا معیشت کے علوم پر تو عبور نہیں رکھتا نہ ہی اعداد و شمار کا ماہر مگر ایک سیدھا سادھا پاکستانی مسلمان ہوں ، اسی کی دہائی میں دینی اور دنیاوی تعلیم کا سلسہ شروع ہوا اور اب تک پاکستان میں ہی مقیم رہا ہوں اس لئے مجھے بحیثیت پاکستانی مُسلمان اپنے حقوق کے بارے آگاہی اور متقاضی ہونے کے لئے کسی دانشور جیسی بلا کی ذہانت کی قطعی ضرورت نہیں۔
میرے ایمان اور شعور کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ جیسا کہ ہم شروع سے عربوں کی شجاعت اور بہادریوں کے قصوں سے متاثر ہو کے پاکستانی نوجوانوں کو مُختلف بین الاقوامی متنازعہ محاذوں پر کوڑیوں کے بھاؤ جھونک چُکے ہیں وہ عرب شجاعت اور دلیری کہاں ہے
آج اگر سعودی عرب شاہانہ طرز زندگی کی بجائے وہی مجاہدانہ طرز زندگی اپناتا جس کی ہمیں  تعلیم دلاتا رہا ہے تو میری لائف ٹائم آئیڈیالوجی برباد نہ ہوتی نہ ہی آج میرا سر جھُکتا۔
بحیثیت پاکستانی ہم اپنے ہی معصوم بھائیوں اور بیٹوں کو کب تک اس تِیر تُکّے کی بھینٹ چڑھتے دیکھیں گے، سعودیہ اپنی فوج بنانا چاہے تو اس کے لیے شائد اتنا ہی آسان ہو جتنا آج کل کیبل کا کنکشن حاصل کرنا ہو گیا ہے مگر وہ اپنے شہریوں کو کفالت کی افیون پر تو لگا دے گا مگر ان کو لڑائی میں نہیں جھونکے گا نہ ہی یہ چاہے گا کہ اس کے عوام نازونعم اور عیش وعشرت کی زندگی چھوڑ کر عسکری اور سیاسی سوچ اپنانے لگیں ۔

اب آتے ہیں ایران کی طرف جس کے ساتھ ہمارے حساس ترین صوبے بلوچستان کی سرحدیں بھی لگتی ہیں۔
ایران کے اوپر بہت مرتبہ بلوچستان میں جاری بدامنی کا ذمہ دار ہونے کا الزام لگ چکا ہے
ایران کی بلوچستان میں حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
وارلارڈز کو پناہ دینا شدت پسند گروپوں کی سپورٹ کرنا انہیں ہر طرح کا سامان بارڈر پر مہیا کرنا یہی کافی نہیں تھے اوپر سے کُچھ عرصہ پہلے سرحدی محافظوں کے قتل کا الزام زبردستی پاکستان پر تھوپنا اور اب انڈیا کے ساتھ بڑھتی محبت اور دونوں کے درمیان ہوئے قول اقرار وغیرہ بھی ناقابل معافی گردانے جاتے ہیں۔
یار لوگوں کا مشورہ ہے کہ حکوُمت کو ریاست کے دوہرے مفاد کی خاطر آخری مرتبہ اس تیِر کو اُٹھا لانا چاہئے ایران کو بھی سبق مل جائے گا اور عرب دوستوں کو بھی راضی کر کے معاشی اہداف حاصل کئے جا سکیں گے اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کیسے اس کوئلے کی چاروناچار دلالی سے ملکی امن ، روزگار ، معاشی بہتری اور دیگر مہلک ملکی مسائل کے حل جیسے اہداف حاصل کر پاتی ہے ۔

No comments:

Post a Comment