Friday, 13 December 2019

قومی کھیل

قومی کھیل

وطن عزیز کا سب سے مقبول کھیل کیا ہے؟
بہت سارے لوگ سوچیں گے کرکٹ مگر نہیں جناب
کرکٹ بہت مقبول ضرور ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ تمام کے تمام لوگ اس کے شیدائی بن جائیں
ویسے بھی تماش بین ہونا الگ بات ہے خود کھلاڑی بننا الگ بات
تو آئیے جناب آپ کا تعارف ایک ایسے کھیل سے کراتے ہیں جس کو ہماری پوری قوم بڑے شوق سے کھیلتی ہے بلکہ اونچے درجے کی مہارت بھی رکھتی ہے
یہ کھیل ہے رول پلئینگ
(Role Playing)
نام سے شاید زیادہ لوگ واقف نہ ہوں مگر کام میں سب اس کے ماہر ہیں اور کھیلنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے۔
طریقہ اس کو کھیلنے کا آسان ہے کہ جو آپ نہیں ہیں وہ بن کے سوچیں جو آپ کی ذمہ داری نہیں ہے اس کو ایکٹ کر کے دکھائیں
کیا تعلیم یافتہ کیا ان پڑھ وطن عزیز کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ صبح سے رات تک اپنی ذاتی ذمہ داریاں چھوڑ کر یہی کھیلنے میں مشغول رہتے ہیں

گزشتہ دنوں ایک عزیز سے ملاقات ہوئی جو معیشت سے متعلقہ محکمے میں افسر ہیں
کشمیر اور سرحدی تنازعات بارے خدشات اور ان میں ایک سابقہ وزیراعظم کے کردار کو بیان کرنے کے بعد فرمانے لگے کہ آرمی چیف نے معیشت بارے کیا اعلیٰ بیان دیا ہے یہ اب لائن سیدھی کر کے ہی دم لیں گے انشااللہ۔
میں نے عرض کی جناب بہت متاثر کن جذبات ہیں آپ کے مگر کیا یہ عجیب سا نہیں کہ آپ اور چیف صاحب دونوں اپنا اپنا منصب چھوڑ کے ایک دوسرے کا رول پلے کر رہے ہیں

آپ کسی عدالت میں چلے جائیں جج صاحب بیٹھے منصف کی کرسی پر ہوتے ہیں مگر رول پلے کر رہے ہوتے ہیں مبلغ کا یا مصلح کا یا سیاسی رہنما کا
باہر نکلیں وکیل صاحب سے ملیں وہ وکالت کا کاسٹیوم پہن کے جگا جٹ کا رول پلے کر رہے ہوتے ہیں
واپڈا والوں کے پاس جائیں گے وہ نیب والوں پر تجزیہ نگاری کر رہا ہو گا دیہات میں کسی پٹواری کے پاس چلے جائیں وہ اپنے کام کی بجائے ملتان میٹرو یا لاہور اورنج ٹرین بارے انجینئرانہ تجزیہ پیش کر دے گا
اور پھر یہ نہیں کہ ہم سب رول سلیکشن میں انتشار کا شکار ہوں کچھ رول تو ایسے ہیں جو تمام کے تمام بیس بائیس کروڑ عوام بہت رغبت سے اختیار کرتے ہیں۔

اور وہ ہے ہمارا نظریاتی محافظ رول جو کھدر کا سادہ لباس پہنے رات کی بچی ہوئی سوکھی روٹی پانی سے کھا کر تلوار سونت کر کٹیا سے نکلتا ہے محمد بن قاسم کی طرح دوسروں کے زیر تصرف لڑکیوں کی دنیاوی و اخروی آزادی بارے پریشان ہوتا ہے۔ غیر مذہبوں کے لئے ظہیر الدین بابر  ہم مذہبوں کے لئے حجاج بن یوسف تمام سیاسی مخالفین کے لئے خمینی اور دوستوں کے لئے ملک ریاض ہوتا ہے۔

شاید ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا فدوی نے کسی بھی سرکاری منصب دار کو اپنے منصب کے شایان بات کرتے نہیں سنا۔
کوئی ایک بھی بائیسویں گریڈ سے نچلے ترین درجے تک کسی بھی محکمے کے ملازم کو اپنے گریڈ اور اپنے فیلڈ ورک کے مطابق ایکٹ کرتے نہیں دیکھا
سب اپنی اپنی تصوراتی جنگوں میں الجھے ہوئے وقت گزاری کر رہے ہیں۔

ہم پاکستانی معاشرتی ریل گاڑی کے جس ڈبے میں سفر کر رہے ہیں جب تک اس ٹرین ڈرائیور ٹکٹ چیکر یا  سٹیشن ماسٹر کے تصوراتی رول کو بھول کر اپنا حقیقی رول نہیں نبھائیں گے کہ بنا ٹکٹ سفر نہیں کرنا گندگی نہیں پھیلانی اور ساتھی مسافروں کے ساتھ اخلاقی برتاؤ رکھنا ہے تب تک ہمارے والا ڈبہ تھرڈ کلاس بوگی ہی کہلائے گا۔

No comments:

Post a Comment