Wednesday, 19 August 2015

ایک کہانی بڑی پرانی

ایک کہانی بڑی پُرانی

کہانیاں تو نِری کہانیاں ہی ہوتی ہیں
بچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ ایک شہزادی کو جن اُٹھا کے کے جاتا ہے ، پھر ایک بہادر جوان جان کی بازی لگا کر شہزادی کو جن کے چنگل سے چھڑوا کر لے آتا ہے ، بعد میں دونوں شادی کر لیتے ہیں اور ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے ہیں

حقیقی دُنیا کا کہانیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہاں کا بہادر جوان جنگلوں ، پہاڑوں اور صحراؤں کے دھکے کھاتا ہے کسی جِن یا جِن والے بابوں کی تلاش میں جو اُس پر نظرِ کرم کریں تو وہ اپنی شہزادی کی خواہشات اور فرمائشوں کو پوُرا کر کے سُرخرو ہو سکے

ابھی پچھلی چاند رات کو ایک ایسے ہی بہادر نوجوان سے ٹکراؤ ہو گیا ، چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں ، وجہ پوُچھی تو ایک ہاتھ بھر کا کپڑے کا ٹُکڑا دکھا کر روہانسی آواز میں بولا صبح عید ہے اور شہزادی کا حُکم ہے کہ اس رنگ سے ملتے جھُمکے اور نیل پالش ، لپ اسٹک و آئی شیڈ ڈھونڈ کے لاؤ اور تاکید مزید کہ رتی بھر کا بھی فرق نہ پڑے شیڈ میں ۔ مُجھے سچ میں بڑا ترس آیا پر زوجین کا آپس کا معاملہ سمجھ کے نظرانداز کر دیا

ایک اور جاننے والے "بہادر جوان" جن کے ساتھ گھریلو تعلقات بھی ہیں ، اپنی شہزادی نما بیگم کو موٹر سائیکل پر لے کے آتے ہیں ، مُحترمہ گھر آ کے بیٹھ جائیں تو کئی گھنٹے باتیں نہیں ختم ہوتیں اور وہ مظلوم باہر دھوپ ہو یا چھاؤں ویسے ہی موٹر سائیکل کے اوپر بیٹھا رہتا ہے اور اصرار کرنے پر بھی ڈرائنگ روم میں نہیں بیٹھتا ، پہلے پہل تو مُجھے بہت غُصہ آتا تھا پھر غُصے کی جگہ ترس آنے لگا کہ کیا زندگی ہے آج کے نوجوان کی کہ ستم رسیدہ بھی وہی اور لعن طعن کا شکار بھی وہی

آج کی شہزادیوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو چاہے جان کی بازی لگانی پڑے جنات کی تلاش شُروع ہو جائے گی کہ وہ شہزادی کو آٹھا کے لے ہی جائیں

No comments:

Post a Comment